Your school name
2nd Year اُردو لازمی First half Book Paper2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 15 × 1 = 15)
جنتی نہ ہونے کی بات سن کر بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے کیا چھا گیا؟
"رابطہ عالم اسلامی" (مکہ مکرمہ) کی طرف سے سیرت النبیﷺ پر پہلا عالمی مقابلہ کس سال منعقد ہوا؟
آغا حشر نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کس اسکول میں داخلہ لیا؟
پروفیسر انور رومان نے میٹرک کا امتحان کہاں سے پاس کیا؟
میر امن کی سب سے اہم اور شہرت یافتہ تصنیف کون سی ہے؟
شمس الرحمن فاروقی کب پیدا ہوئے؟
میاں نے ماں جی کو کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں عطا کیں؟
اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے منظر کا حصہ بن جاتے ہیں:
مسلم اکثریت والے علاقوں میں آزاد مسلم ریاست قائم کرنے کے اعلان کو کیا کہتے ہیں؟
مصنف نے سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت کیا ہوتے ہیں؟
غوث بہار نے بلوچی زبان پر کل کتنی کتابیں شائع کیں؟
مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے:
سہراب کو افسوس تھا کہ اس کی آنکھوں کے نصیب میں کس کا دیدار نہ تھا؟
دھوبی کی پکار سن کر سپاہیوں میں کیا مچ گئی؟
میر امن کا خاندان کس دربار سے وابستہ تھا؟
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 3 of 5 · 3 × 5 = 15)
اسی زمانے میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے صاحبزادوں نے مسلمانوں کی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کو دور کرنے کی تحریک شروع کی۔ پھر ان کے پوتے شاہ اسماعیلؒ نے اپنے مرشد سید احمد بریلویؒ کے ساتھ اسلامی اصولوں کو دوبارہ رائج کرنے اور ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی کوشش میں ۱۸۳۱ء میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ تاہم انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ چناں چہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں نے پھر اپنے قدم جمانے کی کوشش کی لیکن انگریزی اقتدار مستحکم ہو چکا تھا، اس لیے انھیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس زمانے میں سرسید نے مجبوراً انگریزوں سے مفاہمت کو غنیمت جانا اور مسلمان قوم کی اخلاقی اور تہذیبی اصلاح پر توجہ دی اور ان کے دلوں سے احساسِ کمتری کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ ۱۸۸۵ء میں ہندوؤں نے کانگریس کی بنیاد ڈالی اور ظاہر یہ کیا کہ وہ ملک کی تمام قوموں کو ان کے حقوق دلوائیں گے لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے کاروبار سے بھی محروم کرنے کی کوشش کی اور وہ سرکاری ملازمتوں پر بھی قابض ہو گئے۔ نیز انھوں نے مسلمانوں کی مشترکہ زبان اردو کے مقابلے میں ہندی کو قائم کر دیا۔ سرسید نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی اس کانگریس اور ان کی سیاست سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے ایک دوست مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیوبند میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کی طرف توجہ دی۔ پھر سرسید کے ایک رفیق نواب وقار الملک نے ۱۹۰۶ء میں کل ہند مسلم لیگ کے نام سے مسلمانوں کی ایک الگ تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ یہ تنظیم ڈھاکے میں قائم ہوئی تھی، جہاں ہندوؤں نے سازش کر کے مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے مشرقی بنگال اور آسام کا وہ صوبہ جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، ختم کرا دیا اور ۱۹۱۱ء میں اسی علاقے کو پھر بنگال میں شامل کرا دیا۔
”آپ کون ہیں اور یہاں کیسے آئے ہیں؟“ کالے شخص نے بوڑھے سے دریافت کیا۔”جائیے یہاں سے چلے جائیے ، یہ کوئی اچھی جگہ نہیں ہے ۔۔۔“”میں سو گیا تھا۔ حساب کتاب سے رہ گیا تھا۔ جنت اور اعراف میں میرا نام نہیں تھا۔ اب آپ مہربانی کر کے اپنے رجسٹر میں دیکھیں، کہ میرا نام اس میں ہے کہ نہیں۔ میرا نام۔۔۔“”یہاں کوئی رجسٹر وجسٹر نہیں ہے بابا!“ بوڑھے کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کالے شخص نے بتایا، ”جس کے گناہ اس کے ثواب سے زیادہ ہوں، اُس کی جگہ یہی ہے۔۔۔ یہاں نام کے ذریعے کوئی نہیں آتا۔ لیکن آپ کیسے آئے ہیں؟ یہاں تو ہر کسی کو فرشتے لاتے ہیں اور آگ سے بھرے ہوئے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔“”میں حیران ہوں،“ بوڑھے نے کہا، ”دنیا میں میری ایک بڑی قوم تھی لیکن یہاں تو میری قوم کا ایک فرد بھی نظر نہیں آتا؟ شاید مجھ سے پہلے آئے ہیں۔ اگر میں انھیں دیکھ لیتا تو مجھے اپنی جگہ کا بھی پتا چل جاتا۔ آپ مہربانی کر کے مجھے وہ کنویں تو دکھا دیں، جہاں آپ کے بقول فرشتے لوگوں کو لا کر پھینک دیتے ہیں۔“
رستم و سہراب
یاد آگئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگی التجائیں رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ایک دفعہ بہادر خان بھوکا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں فلاں فلاں پالیز (خربوزے وغیرہ کا کھیت) میں چلتا ہوں جو قریب ہی ہے، وہاں سے کچھ خربوزے اور تربوز توڑ کر کھاتا ہوں۔ چناں چہ وہ روانہ ہوا لیکن اس نے دیکھا کہ مُلّا بھی آ رہا ہے۔ اس نے کہا:"خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ لوگ تو مجھ سے پہلے ہی بھاگتے ہیں۔ تمھیں دیکھ کر اور بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔" مُلّا یہ سن کر تھوڑا سا ٹھٹکا لیکن جونہی بہادر خان چلنے لگا مُلّا بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ بہادر خان نے مُلّا کی خوب مرمت کی لیکن اس کے باوجود بہادر خان کے پیچھے لگا رہا۔ بہادر خان نے اسے خوب زدوکوب کیا لیکن مُلّا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر غصے سے بے تاب ہو کر اس نے مُلّا کو قبرستان میں واپس لا کر اس کھاٹ سے باندھ دیا جس پر مُلّا کی لاش آئی تھی اور کہنے لگا:"اب ہلو تو میں تمھیں دیکھوں گا۔" اس کے بعد وہ روانہ ہوا۔