Skip to content

Punjab (PTB) · Full book test · Free

2nd Year اُردو لازمی Full Book Paper

51 marks · 2 hours 30 minutes · 21 questions. Covers: 23 chapters (نظم نمبر 1: حمد to گرائمر (خطوط)، (مضامین)).

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Full Book Paper

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 51Time: 2 hours 30 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 15 × 1 = 15)

  1. ہونا:

    1. صبح کا وقت سہانا ہوتا ہے

    2. یہ کام ہونا چاہیے

    3. ناراض نہ ہونا

    4. بچہ سویا ہوا ہے

  2. میر امن کی سب سے اہم اور شہرت یافتہ تصنیف کون سی ہے؟

    1. گنجِ خوبی

    2. باغ و بہار

    3. اخلاقِ محسنی

    4. قصہ چہار درویش

  3. میاں نے ماں جی کو کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں عطا کیں؟

    1. دو بیٹے، دو بیٹیاں

    2. تین بیٹے، تین بیٹیاں

    3. چار بیٹے، دو بیٹیاں

    4. ایک بیٹا، تین بیٹیاں

  4. "رابطہ عالم اسلامی" (مکہ مکرمہ) کی طرف سے سیرت النبیﷺ پر پہلا عالمی مقابلہ کس سال منعقد ہوا؟

    1. ١٩٧٢ء

    2. ١٩٧٤ء

    3. ١٩٧٦ء

    4. ١٩٧٩ء

  5. مصنف نے سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت کیا ہوتے ہیں؟

    1. پودے

    2. کھیت

    3. باغ

    4. جنگل

  6. پروفیسر انور رومان نے میٹرک کا امتحان کہاں سے پاس کیا؟

    1. مغربی پنجاب

    2. مشرقی پنجاب

    3. بلوچستان

    4. سندھ

  7. اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے منظر کا حصہ بن جاتے ہیں:

    1. چار مینار

    2. چھے مینار

    3. آٹھ مینار

    4. نو مینار

  8. مسلم اکثریت والے علاقوں میں آزاد مسلم ریاست قائم کرنے کے اعلان کو کیا کہتے ہیں؟

    1. شملہ وفد

    2. معاہدہ لکھنؤ

    3. قراردادِ پاکستان

    4. نہرو رپورٹ

  9. شمس الرحمن فاروقی کب پیدا ہوئے؟

    1. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۰ء میں

    2. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء میں

    3. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۰ء میں

    4. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۵ء میں

  10. آغا حشر نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کس اسکول میں داخلہ لیا؟

    1. علی گڑھ ہائی اسکول

    2. راج نارائن ہائی اسکول

    3. گورنمنٹ اسکول

    4. مسلم ہائی اسکول

  11. جنتی نہ ہونے کی بات سن کر بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے کیا چھا گیا؟

    1. نور

    2. اندھیرا

    3. دھند

    4. پانی

  12. خطبہ حجتہ الوداع کے اہم نکات یہ ہیں (آخر میں علامت آئے گی)

    1. سکتہ

    2. وقفہ

    3. ختمہ

    4. تفصیلیہ

  13. میر امن کا خاندان کس دربار سے وابستہ تھا؟

    1. اودھ

    2. مغلیہ

    3. بیجاپور

    4. گولکنڈہ

  14. ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو سامنے کیا آتا ہے؟

    1. پلاؤ اور زردہ

    2. مکی کی روٹی اور چٹنی

    3. گندم کی روٹی اور سالن

    4. حلوہ اور پوری

  15. مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے:

    1. بہت بڑا خزانہ

    2. سونے کا پہاڑ

    3. سیم و زر

    4. قیمتی گھوڑے

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 4 of 6 · 4 × 9 = 36)

  1. اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے، پھر کہا: ”ہم نے اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو سچا مانا، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ خداوندی میں اس کی پیروی کی۔ چناں چہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے حرام بتایا انھیں حرام مانا، اور جن کو حلال بتایا انھیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انھیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انھوں نے ہم پر بہت قہر و ظلم کیا، زمین تنگ کر دی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔ اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

  2. کھانے پینے میں وہ کپڑے لتے سے بھی زیادہ سادہ اور غریب مزاج تھیں۔ ان کی مرغوب ترین غذا مکئی کی روٹی، دھنیے پودینے کی چٹنی کے ساتھ تھی۔ باقی چیزیں خوشی سے تو کھا لیتی تھیں لیکن شوق سے نہیں۔ تقریباً ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں۔ پھلوں میں بہت ہی مجبور کیا جائے تو کبھی کبھار کیلے کی فرمائش کرتی تھیں۔ البتہ ناشتے میں چائے دو پیالے اور تیسرے پہر سادہ چائے کا ایک پیالہ ضرور پیتی تھیں۔ کھانا صرف ایک وقت کھاتی تھیں، اکثر و بیشتر دوپہر کا، شاذ و نادر رات کا۔ گرمیوں میں عموماً مکھن نکالی ہوئی پتلی نمکین لسی کے ساتھ ایک آدھ سادہ چپاتی ان کی محبوب خوراک تھی۔

  3. تجھے زعمِ خود نِگری سہی ، مجھے فخرِِ قربِ حبیب ہے   میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر ، مجھے آئینوں سے نکال دے
  4. ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں   دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں
  5. فریزر نے آنکھ اٹھا کر حکیم صاحب کو دیکھا۔ اس کے پہلے کہ وہ انھیں بیٹھنے کا اشارہ کرے، حکیم صاحب اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کر کے خود ہی پاس والی صندلی پر متمکن ہو گئے۔ فریزر نے اشارے سے تمام نوکروں کو رخصت کیا، نیم قد کھڑے ہو کر حکیم صاحب کی تعظیم کی اور کہا:”عُمدۃ الملک! آپ تشریف لائے، میں بہت ممنون ہوں۔“حکیم صاحب نے کچھ جواب نہ دیا، صرف سر کو خفیف سا خم کیا، گویا کہ رہے ہوں کہ ٹھیک ہے، میں آپ کے بلاوے پر آ گیا لیکن یہ تکلفات نہ کیجیے، برسرِ مطلب آئیے۔ فریزر نے ایک لمحہ انتظار کیا لیکن جب دیکھا کہ حکیم صاحب کو رسمی گفتگو میں دلچسپی نہیں، تو اس نے مزید کہا:”عُمدۃ الملک! آپ کی مدبّرانہ لیاقت اور سوجھ بوجھ کے سب قائل ہیں۔“اب حکیم صاحب کو کچھ جواب دیتے ہی بنی۔ انھوں نے آداب بجالا کر کہا، ”نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کرم گستری اور قدر افزائی ہے۔“فریزر نے مسکرا کر کہا: ”آپ کو آج زحمت دہی کا سبب یہی ہے۔“

  6. سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتِ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!! لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔ لہذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:”ایک چمچہ یا دو؟“تو مجبوراً یہی گزارش کرتا ہوں کہ ”میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچے ڈال دیجئے۔“