Your school name
2nd Year اُردو لازمی Full Book Paper2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 15 × 1 = 15)
ہونا:
میر امن کی سب سے اہم اور شہرت یافتہ تصنیف کون سی ہے؟
میاں نے ماں جی کو کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں عطا کیں؟
"رابطہ عالم اسلامی" (مکہ مکرمہ) کی طرف سے سیرت النبیﷺ پر پہلا عالمی مقابلہ کس سال منعقد ہوا؟
مصنف نے سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت کیا ہوتے ہیں؟
پروفیسر انور رومان نے میٹرک کا امتحان کہاں سے پاس کیا؟
اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے منظر کا حصہ بن جاتے ہیں:
مسلم اکثریت والے علاقوں میں آزاد مسلم ریاست قائم کرنے کے اعلان کو کیا کہتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی کب پیدا ہوئے؟
آغا حشر نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کس اسکول میں داخلہ لیا؟
جنتی نہ ہونے کی بات سن کر بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے کیا چھا گیا؟
خطبہ حجتہ الوداع کے اہم نکات یہ ہیں (آخر میں علامت آئے گی)
میر امن کا خاندان کس دربار سے وابستہ تھا؟
ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو سامنے کیا آتا ہے؟
مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے:
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 4 of 6 · 4 × 9 = 36)
اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے، پھر کہا: ”ہم نے اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو سچا مانا، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ خداوندی میں اس کی پیروی کی۔ چناں چہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے حرام بتایا انھیں حرام مانا، اور جن کو حلال بتایا انھیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انھیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انھوں نے ہم پر بہت قہر و ظلم کیا، زمین تنگ کر دی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔ اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
کھانے پینے میں وہ کپڑے لتے سے بھی زیادہ سادہ اور غریب مزاج تھیں۔ ان کی مرغوب ترین غذا مکئی کی روٹی، دھنیے پودینے کی چٹنی کے ساتھ تھی۔ باقی چیزیں خوشی سے تو کھا لیتی تھیں لیکن شوق سے نہیں۔ تقریباً ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں۔ پھلوں میں بہت ہی مجبور کیا جائے تو کبھی کبھار کیلے کی فرمائش کرتی تھیں۔ البتہ ناشتے میں چائے دو پیالے اور تیسرے پہر سادہ چائے کا ایک پیالہ ضرور پیتی تھیں۔ کھانا صرف ایک وقت کھاتی تھیں، اکثر و بیشتر دوپہر کا، شاذ و نادر رات کا۔ گرمیوں میں عموماً مکھن نکالی ہوئی پتلی نمکین لسی کے ساتھ ایک آدھ سادہ چپاتی ان کی محبوب خوراک تھی۔
تجھے زعمِ خود نِگری سہی ، مجھے فخرِِ قربِ حبیب ہے میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر ، مجھے آئینوں سے نکال دے ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں فریزر نے آنکھ اٹھا کر حکیم صاحب کو دیکھا۔ اس کے پہلے کہ وہ انھیں بیٹھنے کا اشارہ کرے، حکیم صاحب اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کر کے خود ہی پاس والی صندلی پر متمکن ہو گئے۔ فریزر نے اشارے سے تمام نوکروں کو رخصت کیا، نیم قد کھڑے ہو کر حکیم صاحب کی تعظیم کی اور کہا:”عُمدۃ الملک! آپ تشریف لائے، میں بہت ممنون ہوں۔“حکیم صاحب نے کچھ جواب نہ دیا، صرف سر کو خفیف سا خم کیا، گویا کہ رہے ہوں کہ ٹھیک ہے، میں آپ کے بلاوے پر آ گیا لیکن یہ تکلفات نہ کیجیے، برسرِ مطلب آئیے۔ فریزر نے ایک لمحہ انتظار کیا لیکن جب دیکھا کہ حکیم صاحب کو رسمی گفتگو میں دلچسپی نہیں، تو اس نے مزید کہا:”عُمدۃ الملک! آپ کی مدبّرانہ لیاقت اور سوجھ بوجھ کے سب قائل ہیں۔“اب حکیم صاحب کو کچھ جواب دیتے ہی بنی۔ انھوں نے آداب بجالا کر کہا، ”نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کرم گستری اور قدر افزائی ہے۔“فریزر نے مسکرا کر کہا: ”آپ کو آج زحمت دہی کا سبب یہی ہے۔“
سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتِ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!! لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔ لہذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:”ایک چمچہ یا دو؟“تو مجبوراً یہی گزارش کرتا ہوں کہ ”میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچے ڈال دیجئے۔“