Your school name
2nd Year اُردو لازمی 1st Quarter Book Paper2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 12 × 1 = 12)
میاں نے ماں جی کو کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں عطا کیں؟
مصنف نے سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت کیا ہوتے ہیں؟
آغا حشر نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کس اسکول میں داخلہ لیا؟
"رابطہ عالم اسلامی" (مکہ مکرمہ) کی طرف سے سیرت النبیﷺ پر پہلا عالمی مقابلہ کس سال منعقد ہوا؟
ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو سامنے کیا آتا ہے؟
کافی کا جلا چائے بھی پیتا ہے:
سہراب کو افسوس تھا کہ اس کی آنکھوں کے نصیب میں کس کا دیدار نہ تھا؟
مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے:
قدرت اللہ شہاب کا انتقال کس سال ہوا؟
کس چیز کی عادت کو ذوق میں تبدیل کرنے کے لیے بڑا پِتّا مارنا پڑتا ہے؟
سہراب نے اپنی ماں کا نام کیا بتایا؟
مسلمانوں نے ہجرت کی مکہ مکرمہ سے:
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 3 of 4 · 3 × 4 = 12)
اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے، پھر کہا: ”ہم نے اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو سچا مانا، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ خداوندی میں اس کی پیروی کی۔ چناں چہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے حرام بتایا انھیں حرام مانا، اور جن کو حلال بتایا انھیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انھیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انھوں نے ہم پر بہت قہر و ظلم کیا، زمین تنگ کر دی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔ اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتِ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!! لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔ لہذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:”ایک چمچہ یا دو؟“تو مجبوراً یہی گزارش کرتا ہوں کہ ”میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچے ڈال دیجئے۔“
یاد آگئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگی التجائیں رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر کریم ایسے کہ اِنعام کرتے جاتے ہیں جواد ایسے کہ نعمت کو کم نہیں کرتے