Skip to content

Punjab (PTB) · Quarter book test · Free

2nd Year اُردو لازمی 2nd Quarter Book Paper

24 marks · 1 hour · 16 questions. Covers: 6 chapters (نثر نمبر 7: محشر to نثر نمبر 12: نظریہ پاکستان).

Your school name

2nd Year اُردو لازمی 2nd Quarter Book Paper

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 24Time: 1 hour

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 12 × 1 = 12)

  1. شمس الرحمن فاروقی کب پیدا ہوئے؟

    1. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۰ء میں

    2. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء میں

    3. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۰ء میں

    4. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۵ء میں

  2. جنتی نہ ہونے کی بات سن کر بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے کیا چھا گیا؟

    1. نور

    2. اندھیرا

    3. دھند

    4. پانی

  3. مسلم اکثریت والے علاقوں میں آزاد مسلم ریاست قائم کرنے کے اعلان کو کیا کہتے ہیں؟

    1. شملہ وفد

    2. معاہدہ لکھنؤ

    3. قراردادِ پاکستان

    4. نہرو رپورٹ

  4. اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے منظر کا حصہ بن جاتے ہیں:

    1. چار مینار

    2. چھے مینار

    3. آٹھ مینار

    4. نو مینار

  5. میر امن کی سب سے اہم اور شہرت یافتہ تصنیف کون سی ہے؟

    1. گنجِ خوبی

    2. باغ و بہار

    3. اخلاقِ محسنی

    4. قصہ چہار درویش

  6. پروفیسر انور رومان نے میٹرک کا امتحان کہاں سے پاس کیا؟

    1. مغربی پنجاب

    2. مشرقی پنجاب

    3. بلوچستان

    4. سندھ

  7. مرض کی نوعیت سمجھنے کے لیے حکیم صاحب کے لیے کیا کافی تھا؟

    1. چہرہ دیکھنا

    2. نبض دیکھنا

    3. بات سننا

    4. آنکھیں دیکھنا

  8. غوث بہار نے بلوچی زبان پر کل کتنی کتابیں شائع کیں؟

    1. دو

    2. تین

    3. چار

    4. پانچ

  9. ہندوؤں نے مسلمانوں کی مشترکہ زبان اردو کے مقابلے میں کسے قائم کیا؟

    1. سنسکرت

    2. انگریزی

    3. ہندی

    4. پنجابی

  10. میں نے جیب سے نوٹ نکالا:

    1. پچاس ڈالر کا

    2. پچاس لیرا کا

    3. پچاس یوآن کا

    4. پچاس ریال کا

  11. میر امن کا خاندان کس دربار سے وابستہ تھا؟

    1. اودھ

    2. مغلیہ

    3. بیجاپور

    4. گولکنڈہ

  12. دھوبی کی پکار سن کر سپاہیوں میں کیا مچ گئی؟

    1. خوشی

    2. لڑائی

    3. صلح

    4. بھگدڑ

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 3 of 4 · 3 × 4 = 12)

  1. ایک دفعہ بہادر خان بھوکا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں فلاں فلاں پالیز (خربوزے وغیرہ کا کھیت) میں چلتا ہوں جو قریب ہی ہے، وہاں سے کچھ خربوزے اور تربوز توڑ کر کھاتا ہوں۔ چناں چہ وہ روانہ ہوا لیکن اس نے دیکھا کہ مُلّا بھی آ رہا ہے۔ اس نے کہا:"خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ لوگ تو مجھ سے پہلے ہی بھاگتے ہیں۔ تمھیں دیکھ کر اور بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔" مُلّا یہ سن کر تھوڑا سا ٹھٹکا لیکن جونہی بہادر خان چلنے لگا مُلّا بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ بہادر خان نے مُلّا کی خوب مرمت کی لیکن اس کے باوجود بہادر خان کے پیچھے لگا رہا۔ بہادر خان نے اسے خوب زدوکوب کیا لیکن مُلّا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر غصے سے بے تاب ہو کر اس نے مُلّا کو قبرستان میں واپس لا کر اس کھاٹ سے باندھ دیا جس پر مُلّا کی لاش آئی تھی اور کہنے لگا:"اب ہلو تو میں تمھیں دیکھوں گا۔" اس کے بعد وہ روانہ ہوا۔

  2. ”آپ کون ہیں اور یہاں کیسے آئے ہیں؟“ کالے شخص نے بوڑھے سے دریافت کیا۔”جائیے یہاں سے چلے جائیے ، یہ کوئی اچھی جگہ نہیں ہے ۔۔۔“”میں سو گیا تھا۔ حساب کتاب سے رہ گیا تھا۔ جنت اور اعراف میں میرا نام نہیں تھا۔ اب آپ مہربانی کر کے اپنے رجسٹر میں دیکھیں، کہ میرا نام اس میں ہے کہ نہیں۔ میرا نام۔۔۔“”یہاں کوئی رجسٹر وجسٹر نہیں ہے بابا!“ بوڑھے کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کالے شخص نے بتایا، ”جس کے گناہ اس کے ثواب سے زیادہ ہوں، اُس کی جگہ یہی ہے۔۔۔ یہاں نام کے ذریعے کوئی نہیں آتا۔ لیکن آپ کیسے آئے ہیں؟ یہاں تو ہر کسی کو فرشتے لاتے ہیں اور آگ سے بھرے ہوئے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔“”میں حیران ہوں،“ بوڑھے نے کہا، ”دنیا میں میری ایک بڑی قوم تھی لیکن یہاں تو میری قوم کا ایک فرد بھی نظر نہیں آتا؟ شاید مجھ سے پہلے آئے ہیں۔ اگر میں انھیں دیکھ لیتا تو مجھے اپنی جگہ کا بھی پتا چل جاتا۔ آپ مہربانی کر کے مجھے وہ کنویں تو دکھا دیں، جہاں آپ کے بقول فرشتے لوگوں کو لا کر پھینک دیتے ہیں۔“

  3. فریزر نے آنکھ اٹھا کر حکیم صاحب کو دیکھا۔ اس کے پہلے کہ وہ انھیں بیٹھنے کا اشارہ کرے، حکیم صاحب اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کر کے خود ہی پاس والی صندلی پر متمکن ہو گئے۔ فریزر نے اشارے سے تمام نوکروں کو رخصت کیا، نیم قد کھڑے ہو کر حکیم صاحب کی تعظیم کی اور کہا:”عُمدۃ الملک! آپ تشریف لائے، میں بہت ممنون ہوں۔“حکیم صاحب نے کچھ جواب نہ دیا، صرف سر کو خفیف سا خم کیا، گویا کہ رہے ہوں کہ ٹھیک ہے، میں آپ کے بلاوے پر آ گیا لیکن یہ تکلفات نہ کیجیے، برسرِ مطلب آئیے۔ فریزر نے ایک لمحہ انتظار کیا لیکن جب دیکھا کہ حکیم صاحب کو رسمی گفتگو میں دلچسپی نہیں، تو اس نے مزید کہا:”عُمدۃ الملک! آپ کی مدبّرانہ لیاقت اور سوجھ بوجھ کے سب قائل ہیں۔“اب حکیم صاحب کو کچھ جواب دیتے ہی بنی۔ انھوں نے آداب بجالا کر کہا، ”نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کرم گستری اور قدر افزائی ہے۔“فریزر نے مسکرا کر کہا: ”آپ کو آج زحمت دہی کا سبب یہی ہے۔“

  4. میں نے ایک اور روشن مینار بھی دیکھا ہے۔ پہلے تو یہ میرے ذہن میں نقشے پر لگے ہوئے ایک نقطے کی صورت میں محفوظ رہا اور پھر ایک دن آنکھیں جھپکیں تو وہ نقطہ مینار بن چکا تھا۔ ایشیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو سائبیریا سے لنکا تک خشکی نظ خشکی نظر آتی ہے۔ لنکا کے جزیرے کی شکل نقشے میں دیکھی تو گمان گزرا جیسے قدرت کی آنکھوں سے خشکی کا آخری قطرہ ٹپک کر سمندر میں گر پڑا ہو۔ اس جزیرے کی جنوبی حد ہمارے نقشے میں زمین کی آخری حد تھی۔ اسکول کے طالب علم نے سوچا کہ خشکی کی اس حدِ آخر پر کھڑا ہو کر اگر یہ کہیں کہ ایشیا میرے قدموں میں سائبیریا تک پھیلا ہوا ہے تو یہ بات جغرافیے کی رُو سے درست اور تاریخ کی رُو سے نا درست ہوگی۔ یہ خیال نہ جانے کب آیا اور کتنے سال لاشعور میں گم رہنے کے بعد ایک دن مسکراتا ہوا میرے سامنے آگیا۔ میں ایک بحری جہاز کے عرشے پر کھڑا تھا، اعلان ہوا کہ اب ہم لنکا کے گرد گھومتے ہوئے جزیرے کی جنوبی حد کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ میری آنکھوں میں چمک آگئی ، سامنے جزیرے کے آخری ساحل پر ایک روشن مینار دمک رہا تھا۔