Your school name
1st Year Islamiat Compulsory 4th Quarter Book Paper1st Year · Islamiat Compulsory · Federal (FBISE)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 12 × 1 = 12)
- قانون کی پاسداری کا مطلب ہے:
- اسلامی نظام انصاف پر عمل درآمد کرنا اور کروانا ہم سب کی ہے:
- خلافت راشدہ کا دور مبارک کتنا عرصہ رہا:
- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر عمل پیرا ہونے سے معاشرت کا نظام منظم اور جامع ہوتا ہے:
- اسلام کے نشاۃ ثانیہ کا مقصد کیا ہے؟
- اسلامی قانون میں حکمران کی حیثیت ہے:
- عصر حاضر میں دُ نیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں خوشحالی کی ایک بڑی وجہ ہے:
- انسان کس کی تعلیمات سے جاہلانہ طرز عمل سے نکلا؟
- خلافتِ راشدہ کا عرصہ تھا :
- اسلامی نظام حکومت میں ترجیح دی جاتی تھی:
- اسلام میں ترقی اور فلاح حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنیاد ہے:
- کن قوانین کو کوئی حکمران ، بادشاہ ، کسی ادارہ کا سربراہ یا بڑا سیاست دان کسی انداز سے منسوخ یا تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا؟
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 8 of 12 · 8 × 2 = 16)
- عصر حاضر میں ترقی یافتہ ممالک کی خوشحالی کی وجہ بتائیں؟
- اسلامی نظام حکومت کے دوسرے دور کے بارے میں قرآن مجید میں کیا فرمایاگیا ہے؟
- عہد نبوی خاتم النبیینﷺ اور عہد خلفائے راشدین کی مشترکہ خصوصیات میں تین کا ذکر کریں۔
- اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور مسلم امت کی ترقی و فلاح کے لیے کن امور کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے؟
- اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور توکل کی اہمیت کیا ہے؟
- اسلام میں فلاح و ترقی کی بنیاد کیا ہے؟
- قانون کی پاسداری سے کیا مراد ہے؟
- نظام انصاف اور قانون کی پاسداری کا بنیادی مقصد بیان کریں۔
- فلاح و ترقی کااسلامی تصور لکھیں۔
- قانون کی پاسداری کے مختلف پہلو کیا ہیں؟
- ہم معاشرے کی فلاح و بہبود اور امن عامہ اپنا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں؟
- فلاح و ترقی کے لیے مادی و سائل کو اختیار کرنے کا اسلام میں کیا حکم ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 3 of 4 · 3 × 4 = 12)
- اسلام میں فلاح وترقی کا تصور واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسے کی اہمیت کو بیان کریں۔
- عصر حاضر کے مطابق اسلام کے نشاۃ ثانیہ کےلیے ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں لکھیں۔
- عملی زندگی کے معاملات میں قانون کی پاسداری کرکے معاشرتی فلاح و بہبود اور امن عامہ کے قیام میں ہم اپنا کردار کیسے ادا کرسکتے ہیں؟ مثالوں کے ساتھ واضح کریں۔
- قوانین کی پاسداری اور ان پر عمل پیرا ہونے کے فوائد و ثمرات لکھیں۔