Skip to content

Punjab (PTB) · Quarter book test · Free

1st Year اُردو لازمی 2nd Quarter Book Paper

40 marks · 1 hour · 28 questions. Covers: 6 chapters (نثر نمبر 5:چارپائی to نثر نمبر 10: پاکستانی زبانیں اور ان کا باہمی رشتہ).

Your school name

1st Year اُردو لازمی 2nd Quarter Book Paper

1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 40Time: 1 hour

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 12 × 1 = 12)

  1. رفیق جرم کی دنیا میں گھِرا رہا:

    1. دس سال

    2. بارہ سال

    3. چودہ سال

    4. سولہ سال

  2. استاد منگو اپنی ناک خاکی قمیض سے صاف کرنے کے نعد پھر:

    1. پینے لگ جاتا ہے

    2. رونے لگ جاتا ہے

    3. بڑبڑانے لگ جاتا ہے

    4. کھانے لگ جاتاہے:

  3. بڑے چچا بتاتے ہیں کہ انھیں بڑی اچھی دی جا رہی ہے:

    1. ملازمت

    2. کوٹھی

    3. دکان

    4. رقم

  4. باغ میں رکھی ہوئی چارپائی کس کی ہے؟

    1. مصنف کی

    2. باغبان کی

    3. چوکیدار کی

    4. کسان کی

  5. ان زبانوں میں لوک اور تحریری ادب کا پیش بہا موجود ہے:

    1. خزانہ

    2. اثاثہ

    3. سرمایہ

    4. ذخیزہ

  6. شیدی کی پُشت زندگی کا بوجھ اٹھاتے،برداشت کرتے بن چکی تھی:

    1. کمان

    2. تیر

    3. نیام

    4. تلوار

  7. اختر طالب علم ہے:

    1. فرسٹ ایئر

    2. سکینڈایئر

    3. تھرڈایئر

    4. فورتھ ایئر

  8. ایک روز استاد منگو نے اپنے تانگے پر ود سواریاں لادیں:

    1. چھاؤنی سے

    2. کچہری سے

    3. انار کلی سے

    4. مال روڈ سے

  9. عالیہ کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر................کرے کہ وہ نہیں جائے گی:

    1. شور

    2. ہنگامہ

    3. اعلان

    4. واویلا

  10. جب چارپائی پنشن کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو داخل کردیتے ہیں:

    1. سٹور میں

    2. کال کوٹھری میں

    3. تہہ خانے میں

    4. کباڑ خانے میں

  11. پاکستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والا ادب تمام پاکستانیوں کی مشترکہ ہے:

    1. جاگیر

    2. میراث

    3. ثقافت

    4. یادگار

  12. یہ محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا کیوں...............کررہاہے:

    1. ڈرامہ

    2. جھگڑا

    3. ڈھونگ

    4. شور

Q2. مختصر سوالات (Attempt any 8 of 12 · 8 × 2 = 16)

  1. استاد منگو کو انگریزوں سے کیوں نفرت تھی؟

  2. بڑی عالیہ سے کیا پوچھتی ہے؟

  3. مصنف کے نزدیک چارپائی ہندوستان میں ایجاد کی ضرورت کو کیسے پورا کرتی ہے؟

  4. پاکستان میں کون کون سی زبانیں بولی جاتی ہیں؟

  5. رفیق خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے فیصلے کی کیا وجہ بتاتاہے؟

  6. حفاظتی عملے نے شیدی کو غیر ملکی ایجنٹ کیوں کہا؟

  7. استاد منگو نے گورے کو مارنے کے بعد کیا کہا؟

  8. جمیل بھیا عالیہ کو کیا نصیحت کرتے ہیں؟

  9. مصنف نے چارپائی کا موازنہ کن چیزوں سے کیا ہے اور کیوں؟

  10. پاکستان کی کن چار بڑی زبانوں کا قدیم وجدید ادب اہم ہے؟

  11. سعیدہ کا اپنے والد سے روتے ہوئے معافی مانگنا کیا ظاہر کرتا ہے؟

  12. لوگ شیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنے کے بارے میں بحث کر رہے تھے؟

Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 3 of 4 · 3 × 4 = 12)

  1. "کون جا رہا ہےپاکستان؟"بڑے چچا نے صحن میں قدم رکھتے ہی بوکھلا کر پوچھا۔انھوں نے اماں کی باتیں سن لی تھیں۔"میں اور عالیہ جائیں گے،اور کسے جانا ہے۔"اماں نے تڑاخ سے جواب دیا۔"کوئی نہیں جا سکتا،میری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں نکال سکتا،کس لیے جاؤ گے پاکستان؟یہ ہمارا ملک ہے،ہم نے قربانیاں دی ہیں اور اب ہم اسے چھوڑکر چلے جائیں؟اب تو ہمارے عیش کرنے کا وقت آرہا ہے۔"بڑے چچا سخت جوش میں تھے۔

  2.  جب نتھو گنجا پگڑی بغل میں دبائے اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا :لا ہاتھ ادھر ۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے ۔ تیری اس گنجی کھوپڑی پر بال اُگ آئیں ۔ اور یہ کہ کر منگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں ۔ دوران گفت گو میں اُس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا: شو د یکھتارہ کیا بنتا ہے ، "یہ روس والا بادشاہ "کچھ نہ کچھ ضرور کر کے رہے گا۔

  3. چارپائی پرسوکھنے کے لیے اناج پھیلایاجائے،جس پر تمام دن چڑیاں حملے کرتی ،دانےچگتی اور گالیاں سنتی رہیں گی۔کوئی تقریب ہوئی تو بڑےپیمانے پر چارپائی پر آلو چھیلے جائیں گے۔ملازمت میں پنشن کے قریب ہوتے ہیں توجو کچھ رخصت جمع ہوئی رہتی ہے،اس کو لے کر ملازمت سے سبک دوش ہوجاتے ہیں۔اسی طرح چارپائی پنشن کے قریب پہنچی ہے تو اس کو کسی کال کوٹھری میں داخل کر دیتے ہیں اور اس پر سال بھرکی پیاز کا ذخیرہ جمع کردیاجاتا ہے۔

  4. اچانک شیدی نے چھلانگ لگائی ۔ وہ چیتے کی طرح چھال مارتا، بڑے بڑے ڈگ بھرتا، لوگوں مصلوں، جوتوں اور چپلوں کی کنی قطار میں پھلانگ گیا۔ پہلی صف میں محمود صاحب کے ساتھ شہر کے لائق افسران ، صنعت کار، تاجر اور بینکر کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گرد نیں جھکائے اور دوزانو بیٹھے ہوئے تھے اور اخباری فوٹو گرافروں سے تصاویر کھنچوار ہے تھے۔