Your school name
10th Class اُردو لازمی Chapter 3 Test10th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
گھر میں داخل ہوتے وقت آپ خاتم النبین ﷺ کا چہرہ مبارک ہوتا تھا:
نرم خو کا متضاد ہے:
گھر میں مسکراتے ہوئے داخل ہونا حق ہے:
آپ خاتم النبین ﷺ کے ہاتھ سے کسی کا نہ مارا جانا دلیل ہے:
فضول باتوں سے پر ہیز علامت ہے:
اپنی ذات کے معاملے میں آپ خاتم النبین ﷺ کا رویہ تھا:
آپ خاتم النبینﷺ دوستوں کی محفل میں نہیں بیٹھتے تھے:
دوسروں کے متعلق آپ خاتم النبین ﷺکن باتوں سے پر ہیز کرتے تھے:
فیاض کا مطلب ہے:
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے مطابق آپ خاتم النبین ﷺ کا مزاج تھا:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
آپ خاتم النبین ﷺ کس کے حکم پرحدجاری فرماتے تھے؟
حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے کن الفاظ میں نبی کریم خاتم النبین ﷺ کو تسلی دی؟
حضرت علی نے کتنے برس آپ خاتم النبینﷺ کی خدمت کی؟
آپ خاتم النبینﷺ کے بات کرنے کا انداز کیسا تھا؟
باہر سے آنے والے بےباک شخص کے ساتھ آپ خاتم النبین ﷺ کا برتاؤ کیا ہوتا؟
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم خاتم النبین ﷺ کے حسن اخلاق کے بارے میں جو کچھ بیان کیا، ان میں سے تین خوبیوں کا ذکر کریں۔
آپ خاتم النبینﷺ دوستوں کی محفل میں کسی طرح بیٹھتے تھے؟
آپ خاتم النبینﷺ کسی سائل کو مایوس کیوں نہیں کرتے تھے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
آپ خاتم النبین ﷺ نرم خُو تھے، سخت مزاج نہ تھے، کسی کی توہین روا نہیں رکھتے تھے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اظہار تشکر فرماتے تھے، کسی چیز کو بُرا نہیں کہتے تھے، کھانا جس قسم کا سامنے آتا تناول فرماتے اور اس کو برا بھلا نہ کہتے۔ کوئی اگر کسی امرِ حق کی مخالفت کرتا تو آپ خاتم النبین ﷺ کو غصہ آجاتا اور اس کی پوری حمایت کرتے۔
اپنے نفس سے تین چیزیں آپ خاتم النبن ﷺ نے بالکل دور کردی تھیں: بحث و مباحثہ ، ضرورت سے زیادہ بات کرنا اور جو بات مطلب کی نہ ہو اس میں پڑنا۔ دوسروں کے متعلق بھی تین باتوں سے پرہیز کرتے تھے، کسی کو برا نہیں کہتے تھے، کسی کی عیب گیری نہیں کرتے تھے، کسی کے اندرونی حالات کی ٹوہ میں نہیں رہتے تھے۔
لوگ جن باتوں پر ہنستے، آپ خاتم النبین ﷺ بھی مسکرا دیتے۔ جن پر لوگ تعجب کرتے، آپ خاتم النبین ﷺ بھی کرتے، کوئی باہر کا آدمی اگر بے باکی سے گفت گو کرتا تو آپ خاتم النبین ﷺ تحمل فرماتے، دوسروں کے منھ سے اپنی تعریف سننا پسند نہیں کرتے تھے لیکن اگر کوئی آپ خاتم النبین ﷺ کے احسان و انعام کا شکریہ ادا کرتے تو قبول فرماتے۔