Your school name
10th Class اُردو لازمی Chapter 7 Test10th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
صراحی پر رکھا گلاس بجنے لگا:
مصنف نے خود کو قراردیا:
"سویر نے جو کل آنکھ میری کھلی" کے مصنف ہیں:
ہوٹل واپسی پر مصنف کیا کر رہے تھے؟
لیڈی میکبتھ کردار ہے:
نماز کا سن کر لالہ جی پر اثر ہوا:
مصنف کا جاگنا نمبر دو ہوتا ہے:
صفحوں کی تعداد کو دِنوں کی تعداد پر تقسیم کیا، جواب آیا:
مصنف کے پڑوسی کا نام تھا:
دوسری رات مصنف نے مجھے کے نیچے تلاش کی:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
مصنف کو سورج گرہن کا شک کیوں ہوا؟
لالہ جی نے دوسری بار جگانے کی درخواست پر کیا جواب دیا؟
مصنف نے نفلوں کے بھوکے کے کہا اور کیوں؟
مصنف نے بیداری کا ثبوت دینے کے لیے کیا الفاظ کہے؟
جل ترنگ کی آواز کہاں سے پیدا ہورہی تھی؟
مصنف کا پورا دن کس طرح گزرا؟
مصنف نے شیکسپئیر اور ورڈز ورتھ کی کیا خوبیاں بیان کی ہیں؟
مصنف نے اپنی جادو بیانی سے کے متاثر کیا؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
اور اس خیال سے کہ ان کی دل شکنی نہ ہو ، حد درجے کی طمانیت ظاہر کی کہ آپ کی نوازش سے میں نے حج کا سہانا اور روح افزا وقت بہت اچھی طرح صرف کیا اور نہ اور دنوں کی طرح آج بھی دس بجے اٹھتا ۔ لالہ جی ! صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے، جو پڑھو خدا کی قسم فورا یاد ہو جاتا ہے۔ بھئی ! خدا نے صبح بھی کیا عجیب چیز پیدا کی ہے یعنی اگر صبح کے بجائے صبح صبح شام ہوا کرتی تو دن کیا بری طرح کنا کرتا۔
وہ حضرت بھی معلوم ہوتا ہے نفلوں کے بھوکے بیٹھے تھے ۔ دوسرے دن اُٹھتے ہی انھوں نے ایشور کا نام لے کر ہمارے دروازے پر مکا بازی شروع کردی ۔ کچھ دیر تک تو ہم سمجھے کہ عالم خواب ہے۔ ابھی سے کیا فکر جاگے تو لاحول پڑھ لیں گے لیکن یہ گولہ باری لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی گئی۔ اور صاحب جب کمرے کے چوبی دروازے لرزنے لگے ، صراحی پر رکھا گلاس جل ترنگ کی طرح بجنے لگا اور دیوار پر لڑکا ہوا کیلنڈر پنڈولم کی طرح ملنے لگا تو بیداری کا قائل ہونا ہی پڑا ۔
دل تو چاہتا تھا کہ عدم تشددو شد کو خیر باد کہ دوں لیکن پھر خیال آیا کہ بنی نوع انسان کی اصلاح کا ٹھیکہ کوئی ہمیں نے لے رکھا ہے؟ ہمیں اپنے کام سے غرض ۔ لیمپ بجھایا اور بڑ بڑاتے ہوئے پھر سو گئے۔ اور پھر حسب معمول نہایت اطمینان کے ساتھ بھلے آدمیوں کی طرح دس بجے اُٹھے، بارہ بجے تک منھ ہاتھ دھو یا اور چار بجے چائے پی کر ٹھنڈی سڑک کی سیر کو نکل گئے۔شام کو واپس ہاسٹل میں وارد ہوئے ۔ جوش شباب تو ہے ہی اس پر شام کا ارمان انگیز وقت، ہوا بھی نہایت لطیف تھی ، طبیعت بھی ذرا چلی ہوئی تھی۔