Your school name
10th Class اُردو لازمی Chapter 4 Test10th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
سرسید کا نام رکھا تھا:
سر سید احمد خاں کا نام رکھا تھا:
سرسید کے والد نے بادشاہ کو جواب دیا:
مان بی بی نے مرتے وقت اپنے زیور کے بارے میں کہا:
سرسید احمد خاں کے والد کو اکبر شاہ کے زمانے میں جشن کے موقع پر ملے:
سرسید نے بادشاہ کو دیر سے آنے کی وجہ بتائی:
تیراک مغرب کی نماز پڑھتے تھے:
مغل پور دہلی سے دور تھا:
گاؤں میں روٹیاں ہوتی تھیں:
سرسید نے اپنے قوائے ذہنیہ کو ترقی دی:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
سرسید بچپن میں کون سے کھیل کھیلا کرتے تھے؟
شام کو چراغ جلنے کے بعد بچے کہاں جاتے تھے؟
سرسید کے نانا نے انھیں پہلی بار دیکھ کر کیا کہا تھا؟
استفہامیہ کون سی علامت ہے؟
سرسید اوران کے بہن بھائی شاہ غلام علی صاحب کو کیا کہ کر پکارتے تھے؟
اچھا سبق سنانے والے بچے کو کیا انعام ملتا تھا؟
قوسین اور ترچھا خط کا استعمال بیان کریں۔
دہلی کے مشہور تیراک کون تھے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
ان کا بیان تھا کہ با وجود اس قدر آزادی کے بچپن میں مجھے تنہا باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ جب میری والدہ نے اپنے رہنے کی جدا حویلی بنائی اور وہاں آرہیں تو باوجودیکہ اس حویلی میں اور نانا صاحب کی حویلی میں صرف ایک سٹرک درمیان تھی ، جب کبھی میں ان کی حویلی میں جاتا تو ایک آدمی میرے ساتھ جاتا۔ اس لیے بچپن میں مجھے گھر سے باہر جانے اور عام صحبتوں میں بیٹھنے یا آوارہ پھرنے کا بالکل اتفاق نہیں ہوا۔
جب وہ مرگئی تو مجھے اُس کے مرنے کا نہایت رنج ہوا۔ میری والدہ نے مجھے سمجھایا کہ وہ خدا کے پاس گئی ہے، بہت اچھے مکان میں رہتی ہے، بہت سے نوکر چاکر اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی بہت آرام سے گزرتی ہے تم کچھ رنج مت کرو۔ مجھ کو ان کے کہنے سے پورا یقین تھا کہ فی الواقع ایسا نہی ہے۔ مدت تک ہر جمعرات کو اس کی فاتحہ ہوا کرتی تھی اور کسی محتاج کو کھانا دیا جاتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ سب کھانا مان بی بی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
گرمی اور برسات کے موسم میں اب بھی ولی کے اکثر باشندے سہ پیر کو جمنا پر جا کر پانی کی سیر دیکھتے ہیں اور تیرنے والے تیرتے ہیں۔مگر پچاس برس پہلے وہاں اشراف تیرنے والوں کے بہت دل چسپ چلے ہوتے تھے۔ سرسید کہتے تھے کہ میں نے اور بڑے بھائی نے اپنے والد سے تیرنا سیکھا تھا۔ ایک زمانہ تو وہ تھا کہ ایک طرف دلی کے مشہور تیراک مولوی علیم اللہ کا غول ہوتا تھا، جن میں مرزا مغل اور مرزا طفل بہت سر بر آوردہ اور نامی تھے