Your school name
10th Class اُردو لازمی Chapter 8 Test10th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
ہمسائے تو ماں جائے ہوتے ہیں قواعد کی رو سے یہ جملہ ہے:
تیسری بار شکاری نے لکڑیاں جمع کیں:
کبوتر سب سے پہلے گیا:
کبوتری نے کبوتر سے کسی چیز کی ضرورت کا اظہار کیا؟
آگ بجانے کےلیے کبوتر اڑے اور پانی بھر لائے:
کبوتر اور گدھ مل کر پاس گئے:
کبوتر کو گدھوں سے لگتا تھا :
شکاری آگ جلانا چاہتا تھا:
کبوتر اور کبوتری کا گھونسلا تھا:
کبوتری کو ہروقت فکر لگی رہتی تھی:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
کبوتر اور گدھ رات کے وقت کس کے پاس مدد کے لیے گئے؟
ماده گدھ نے کبوتری کی کسی بات کی تائید کی؟
شکاری نے کبوتر کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر کیا سوچا؟
شکاری نے تھک کر کیا فیصلہ کیا؟
تلخیص نگاری سے کیا مراد ہے؟
"ہمسائے ماں جائے ہوتے ہیں" کا کیا مطلب ہے؟
کبوتری کے انڈوں کی جگہ اب کس نے لے لی تھی؟
صبح اٹھ کر شکاری نے کیا ارادہ کیا؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
اتنا سوچ کر اس نے اردگرد سے درخت کا جائزہ لیا تو اسے اس پر ایک گھونسلا دکھائی دیا۔ گھونسلا د یکھ کر اس نے اپنے تجربے سے اس کا اندازہ بھی کر لیا کہ گھونسلے میں کسی پرندے کے بچے بھی موجود ہیں۔ اس وقت شام ہونے کو آئی تھی اور آہستہ آہستہ چاروں طرف اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ یہ دیکھ کر شکاری کے ذہن میں ایک ترکیب آئی ۔ اس نے سوچا، اگر میں درخت کے نیچے آگ جلا دوں تو روشنی میں درخت پر گھونسلا تلاش کرنے میں آسانی رہے گی ۔
اس نے ادھر اُدھر سے چند سوکھی لکڑیاں اور گھاس پھونس جمع کی اور پھر ان میں آگ لگا کر الاؤ سا روشن کر دیا۔ اس کے بعد وہ درخت پر چڑھنے کی تیاری کرنے لگا۔ ادھر درخت کے نیچے شکاری یہ تیاری کر رہا تھا اور اُدھر درخت پر بیٹھے ہوئے کبوتر اور کبوتری یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ۔ وہ شکاری کی نیت ۔ بھانپ گئے تھے اور اب اپنے بچوں کو بچانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے جو ، ابھی اتنے چھوٹے تھے کہ اُڑ بھی نہ سکتے تھے۔ کبوتر، کبوترکی سے کہنے لگا : ” میں ابھی اپنے دوستوں کو خبر کرتا ہوں اور انھیں جلد بلا کر لاتا ہوں
ایک روز ایک شکاری اس طرف آنکلا۔ وہ صبح سے مارا مارا پھر رہا تھا لیکن کوئی شکار اس کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ وہ اسی درخت کے نیچے آکر کھڑا ہو گیا جس پر کبوتر اور کبوتری نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔ اس نے دل میں سوچا خالی ہاتھ گھر جانا اچھی بات نہ ہوگی ۔ کیوں نہ کسی گھونسلے سے کسی جانور کے بچے ہی پکڑ کے لے چلوں۔ کچھ تو مل جائے گا۔“