Your school name
10th Class اُردو لازمی Chapter 9 Test10th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
درخت نہ رہنے سے وہاں سے اڑ گئے تھے:
کس کے مکان اور دکان کے ملبے نے گلی کے دہانے کو بندکردیاتھا؟
سڑک پر قدم قدم پر پڑے ہوئے تھے:
گھاس کا رنگ نکھر گیا تھا:
ساکت انسانوں میں جان پڑی:
گاؤں سے کتنا فاصلہ رہ گیا تھا جب منظر اچانک بدل گیا؟
سیالکوٹ شہر میں تانگے پر بیٹھتے وقت ملاقات ہوئی:
پکے مکانوں کی باقی رہ گئی تھیں:
پتھر بنے سے مراد ہے:
تم نے جاگتے میں خواب دیکھا مولوی جی نے کہا:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
باپ نے ماہنے سے کیا سوال کیا؟
مکانوں کی چھتوں اور کڑیوں کا کیا ہوا تھا؟
دیہاتی لوگ کسی الجھے ہوئے معاملے کے حل کے لیے کیا کرتے ہیں؟
باپ نے جب گناہوں کی سزا کا پوچھا تو کس نے انکار کیا؟
جنگ بندی کے بعد کھیتوں کی کیا حالت تھی؟
ناول کیا ہوتا ہے؟
مولوی صاحب نے رونے پر ماہنے کو کیا نصیحت کی؟
چودھری کے خلاف ماہنے کی شکست کی وجہ کیا تھی؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
یہ معاہدہ روس نے کرایا تھا جو دنیا کی بہت بڑی طاقت ہے۔ گاؤں میں کوئی معاملہ الجھ جائے تو گاؤں سے باہر کے کسی بڑے آدمی کو بلا کر ہم اسے سرپنچ بنا لیتے ہیں ۔ وہ جو فیصلہ کرے ہم اُسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔ ہم نے روس کا فیصلہ قبول کر لیا۔ ہم عام لوگوں میں اتنی سیاسی بصیرت کہاں ہے کہ اس معاہدے کی تہ تک پہنچ پاتے۔
جوہڑ کا گدلا سا پانی دھوپ میں چمک رہا تھا۔ بھا اسلم کے مکان اور دُکان کے ملبے نے گلی کے دہانے کو بند کر دیا تھا۔ گلی کے اردگرد کے اردگرد کے مکان منھ پھاڑے ہمیں نگل جانے کو تیار نظر آتے تھے۔ اُن کے دروازے غائب تھے، کھڑکیاں باقی نہیں رہی تھیں، چھتیں موجود نہیں تھیں، کڑیاں، بالے اور شہتیر اتار لیے گئے تھے۔ کچے مکانوں کے کھنڈر تو بہت بھیانک نظر آرہے تھے۔ پکے مکانوں کی سب اینٹیں، پتا نہیں کون ساجن اُٹھا کر لے گیا تھا۔ صرف اُن کی بنیادیں باقی رہ گئی تھیں۔
کبھی اتنے درختوں کے جھنڈ میں میں اُس کے وجود سے بھی واقف نہیں تھا۔ اس کی ایک شاخ پر دو چار ہری بھری پتیاں تھیں اور آج مجھے اپنے علاوہ ساری دنیا میں وہی پودا زندہ نظر آیا۔ پھر اچانک اُس کی شاخ پر ہرے رنگ کی ایک چڑیا آ بیٹھی اور شاخ جھولنے لگی۔ چڑیا نے چوں چوں کی تو میں چونک گیا میں نے اس کی طرف دیکھا اُس نے اپنی گول مٹول آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ کر پوچھا : چوں چوں چوں ۔ تم آگئے؟ تم آگئے ؟ اور مولوی جی ! سچ جانو ، اس ایک پل کے اندر اندر میرا کنواں آباد ہو گیا۔