Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 10 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
رفیق جرم کی دنیا میں گھِرا رہا:
اختر طالب علم ہے:
" انصاف ہی کے لیے تو مَیں یہ سب کر رہا ہوں سلامے!" اس جملے میں"سلامے"اسمِ علم کے مطابق ہے:
رفیق نے جرائم کیے:
مطلوبہ زمین پر بنا مکان ہے:
فقیر حسین کی بیٹی ہے:
ایک نئے پلازہ کی تعمیر کر رہا ہے:
اختر اور سعیدہ جاتے ہیں:
اختر خوش خبری دیتا ہے:
رفیق نے اپنی آپ کو قانون کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
رفیق خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے فیصلے کی کیا وجہ بتاتاہے؟
سعیدہ کا اپنے والد سے روتے ہوئے معافی مانگنا کیا ظاہر کرتا ہے؟
رفیق سلامت کی دلیل کا کیا جواب دیتا ہے اور کیوں؟
سین 14میں رفیق کے ڈیرے پر اختر اور سعیدہ کیوں پرجوش انداز میں آئے تھے؟
فقیر حسین نے بیٹی کو کیا نصیحت کی؟
رفیق کے خیال میں گناہوں کا کفارہ ادا کرنا کیوں ضروری ہے؟
سین 15 میں احمد علی کے گھر کا ماحول کیسا دکھایاگیا ہے؟
جاگیردار جہانگیر کی موت کو قدرت کا انتقام کیوں کہاں جا سکتا ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
احمد علی: ارے نہیں بھئی تمھیں پتا نہیں میں تمھیں یہاں کیوں بلا رہا ہوں ۔ کیوں فقیر حسین؟(مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا ہے۔ فقیر حسین پہلے مسکراتا ہے پھر غور سے سعیدہ کی طرف دیکھتا ہے۔) فقیر حسین: کیا بات ہے سعیدہ بیٹی؟ سعیدہ: (اٹکےہوئے)ابو!چچا جان مجھے جس لیے ۔۔۔ اپنے پاس بلا رہے ہیں ،میں۔۔ میں ۔۔۔ وہ ۔۔ میں نہیں کر سکتی۔ سلمیٰ:(حیرت سے)مگر بیٹی!خالد اور تم تو۔۔۔ احمد علی: ہاں بیٹی!تم دونوں تو۔۔۔
رفیق: ضمیر پر بوجھ لے کر آزا در بنے سے چند سال کی جیل کاٹ لینا برا سودا نہیں اختر ۔۔۔ ( جاتے جاتے رکتا ہے۔ ) پھر تم بھی کسی جھجک کے بغیر مجھے اپنا دوست کہ سکو گے۔۔۔ کہو گے نا!۔۔۔ (اختر اثبات میں سر ہلاتا ہے۔ ) اچھا سعیدہ بی بی خدا حافظ! سعیدہ: خداحافظ۔ سلامت: (بے چینی سے آگے آتے ہوئے ) کمال کرتے ہو یار استاد جی۔ تمھارا کیا خیال ہے، ہمارا کوئی ضمیر نہیں ہے۔۔۔ ہمارے اوپر کوئی بوجھ نہیں۔ اگرتم نے جیل کی دال رونی کھانے کافیصلہ لیا تو میں یہ میرے ساتھ چلوں گا ۔ ( سعیدہ سے) انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
احمد علی: آج میں اتنا خوش ہوں کہ جی چاہتا ہے پیدل ساری دنیا میں گھوم جاؤں۔ نیلم:( شرارت آمیزانداز میں) مگر کراچی سے آگے تو سمندر شروع ہو جاتا ہے ابو ! سلمیٰ: (محبت سے ) بہت بدتمیز ہوتی جارہی ہو تم ۔ اختر: جی بالکل۔ نیلم: آپ تو مت بولا کریں بیچ میں۔ احمد علی: کیوں نہیں بولے گا یہ۔۔۔ بلکہ ہم تو ایسا انتظام کر رہے ہیں کہ تم اس کے سامنے بول ہی نہ سکو ۔ کیوں سلمیٰ؟