Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 5 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
غالب نے مرزا ہر گوپال تفتہ کو خط لکھا:
غزلیات اصلاح کے لیے غالب کے پاس بھجوائی تھیں:
مرزا غالب نے علاء الدین علائی کو خط لکھناتھا:
غالب نے عالم آب وگل سے عالم اارواح کی طرف روانگی بتائی ہے:
نواب صاحب نے غالب کو اصلاح کے واسطے بھیج رکھا تھا:
" جانِ غالب!تم تو ثمر نورس ہواس نہال کے جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشوونما پائی ہے۔" غالب نے یہ جملہ لکھا:
"ثمر نورس" سے مجازاًمراد ہے:"
غالب نے مرزا تفتہ کو اپنے بارے میں بتایاہے:
نواب ضیاء الدین احمد خان نیر کا غالب سے رشتہ تھا:
غالب کا دوسرا خط نام ہے:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
غالب نے اپنی زندگی کو قید سے کیوں تشبیہ دی؟
دوسرے خط میں غالب کا افسردہ انداز کیوں نمایاں ہے؟
غالب نے علائی کے لیے جو استعارے استعمال کیے ہیں،ان سے ان کے رشتے کا کون سا پہلوااجاگر ہوتا ہے؟
نواب مصطفیٰ خاں صاحب کا علاج کون کر رہا ہے اور ان کا کیا کیا علاج ہوچکاہے؟
غالب کے علاقے میں جولائی سے کیا شروع ہوا،اس کا شہر کیا اثر پڑا؟
غالب کی علامتی قید سے فرار کی دوسری کوشش کیا تھی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟
غالب نے پال تفتہ کو کیا کہ کر مخاطب کیا ہے،اس سے ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ظاہر ہوتی ہے؟
غالب نے کس عمل کو مشقت ٹھہرایا ہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
مکاتیب غالب
ہر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالم آب وگل کے مجرم،عالم ارواح میں سزا پاتے ہیں،لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالم ارواح کے گناہ گار کو دنیا میں بھیج کرسزا دیتے ہیں۔ چناں چہ میں آٹھویں رجب 1212ھ میں روبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔ تیرہ برس حوالات میں رہا۔7رجب 1225ھ کو واسطے حکم حبس دوام صادر ہوا۔ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دلی شہر لو زنداں مقرر کیا اور مجھے اس زنداں میں ڈال دیا۔
تم سچ کہتے ہوکہ بہت مسودے اصلاح کے واسطے فراہم ہوئے ہیں،مگر یہ نہ سمجھنا کہ تمھارے ہی قصائد پڑے ہیں۔نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح دھری ہوئی ہیں۔برسات کا حال تمھیں بھی معلوم ہےاور یہ بھی تم جانتے ہو کہ میرا مکان گھر کا نہیں ہے کرائے کی حویلی میں رہتا ہوں۔جولائی سے مینہ شروع ہوا۔ شہر میں سیکڑوں مکان گرے اور مینہ کی نئی صورت،دن رات میں دوچار بار برسےاورہرباراس زور سے کہ ندی نالے بہ نکلیں۔بالاخانے کا جودالان میرے اُٹھنے بیٹھنے،سونے جاگنے،جینے مرنے کا محل ہے،اگر چہ گرانہیں لیکن چھت چھلنی ہوگئی۔کہیں لگن،کہیں چلمچی،کہیںاُگالدان رکھ دیا۔قلم دان،کتابیں اٹھا کر توشے خانے کی کوٹھڑی میں رکھ دیے۔مالک مرمت کی طرف متوجہ نہیں۔کشتی نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔اب نجات ہوئی۔نواب صاحب کی غزلیں اور تمھارے قصائد جائیں گے۔