Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 7 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
باغ میں رکھی ہوئی چارپائی کس کی ہے؟
جب چارپائی پنشن کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو داخل کردیتے ہیں:
ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتےہیں:
ہم چارپائی پر دوا کھاتے ہیں،دعا اور ..................مانگتے ہیں:
بانوں کی ٹوٹی ہوئی چارپائی کو مکّا(مکئی) کے کھیت میں باندھ دیا جاتا ہےبطور:
کوئی چیز خواہ کسی قسم کی ہوکہیں گم ہوئی ہو،ہندوستانی اس کی تلاش کی ابتداکرتا ہے:
سبق میں موسم کا ذکر ہے:
لڑکے لڑکیاں ہیں:
ہندوستانی گھرانوں میں ڈرائنگ روم،سونے کا کمرہ،غسل خانہ،دواخانہ،کتاب گھر اور شفاخانہ کی حیثیت حاصل ہے:
کہیں کوئی پکا ہوا آم ڈال سے ٹوٹ کر گرتا ہے تو سب کے سب:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
مصنف کے نزدیک چارپائی ہندوستان میں ایجاد کی ضرورت کو کیسے پورا کرتی ہے؟
مصنف نے چارپائی کا موازنہ کن چیزوں سے کیا ہے اور کیوں؟
بیمار شخص کی چارپائی کے اردگرد عام طور پر کیا چیزیں نظر آتی ہیں؟
چارپائی پر بیٹھ کر کن موضوعات پر غوروفکر کیا جاتا ہے؟
سبق میں ریاست کے ملازم اور چارپائی میں کون کون سی مشابہت بتائی گئی ہے؟
برسات کے موسم میں مصنف نے اپنے آپ کو چارپائی پر کہاں پایا؟
مصنف نے چارپائی کو کس چیز کا بھر پور نمونہ قرار دیاہے؟
مصنف نے چارپائی کے آرام کا موازنہ جدید فرنیچر سے کرتے ہوئے کیا کہا ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
چارپائی پرسوکھنے کے لیے اناج پھیلایاجائے،جس پر تمام دن چڑیاں حملے کرتی ،دانےچگتی اور گالیاں سنتی رہیں گی۔کوئی تقریب ہوئی تو بڑےپیمانے پر چارپائی پر آلو چھیلے جائیں گے۔ملازمت میں پنشن کے قریب ہوتے ہیں توجو کچھ رخصت جمع ہوئی رہتی ہے،اس کو لے کر ملازمت سے سبک دوش ہوجاتے ہیں۔اسی طرح چارپائی پنشن کے قریب پہنچی ہے تو اس کو کسی کال کوٹھری میں داخل کر دیتے ہیں اور اس پر سال بھرکی پیاز کا ذخیرہ جمع کردیاجاتا ہے۔
پھر عالم تصور میں کائنات تعمیر کرنےلگتا ہوں جو صرف میرے لیے ہے جو میرے ہی اشارے پر بنتی بگڑتی ہے،مجھے خالق کا درجہ حاصل ہے،اپنے مخلوق ہونے کا وہم بھی نہیں گزرتا،نہ اس کا خیال کہ زمانہ کسے کہتے ہیں،نہ اس کی پروا کہ زندگی کیا ہے۔دوسروں کو ان کا اسیر دیکھ کر چونک پڑتا ہوں۔پھر یہ محسوس کر کے کہ میں ان لوگوں سے اور خودزمانہ اور زندگی سے علیحدہ بھی ہوں۔کچھ دیر کے لیے اونگھنے لگتا ہوں۔ممکن ہے اونگنے میں پہلے سے مبتلاًہوں۔
چارپائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سے مدرسہ،آفس،جیل خانے کونسل یاآخرت کا راستہ لیتے ہیں۔چارپائی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ہم اس پر دوا کھاتے ہیں۔دعا اور بھیک بھی مانگتے ہیں۔کبھی فکر سخن کرتے ہیں اور کبھی فکر قوم،اکثرفاقہ کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔