Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 4 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
مرزا شہ زور اور اس کا خاندان انگریزی لشکر کے خوف سے واپس لوٹ گیا:
حضور بیگم،افطاری سے قبل پڑھا کرتی تھیں:
گاؤں کے چودھری نے ایک روپے کاآٹا منگوا کر دیا:
مرزا شہ زور کی بیوی فوت ہوگئی:
مرزا شہ زور کی ماں نے کہا کہ ہم نسل سے ہیں:
دوسرے دن شام کے قریب گاؤں کے چودھری کا آدمی لایا:
انگریزی سرکار نے مرزا شہ زور کی ماہوار پینشن مقرر کردی:
مرزا شہ زور اور اس کا خاندان گاؤں میں رہا:
مرزا شہ زور رشتے میں ابوظفر بہادر شاہ کے تھے ۔
افطاری سے کچھ پہلے،گویے سے گانا سن رہا تھا:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
مرزا شہ زور کو انگریزی سرکار سے کتنی پنشن مقرر ہوئی؟
"خیر باشد ! مزاج عالی مکدّر پاتا ہوں ۔" اس جملے کی وضاحت کریں۔
مرزا شہ زور نے پرانے وقت کو"خواب وخیال کی طرح یاد آتا ہے"کیوں کہا؟
چھتر پور کے قریب مرزا شہ زور اور ان کے ساتھیوں پر کس نے حملہ کیا؟
مرزا سلیم بہادر کون تھا اور وہ کہاں بیٹھے ہوئے اپنے دوستوں سے باتیں کررہے تھے؟
مرزا شہ زور کی والدہ نے اپنی کس خاندانی پس منظر کا حوالہ دیا؟
والدہ نے اپنی مصیبت کو اپنے بزرگوں سے کیوں جوڑا؟
مرزا شہ زور کی بیوی کی وفات کیسے ہوئی؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
ان کا چودھری بولا:" ہم نے کَےبیرا(ہمیں کیا خبر) کہ تم کَے کام (کیا کام) کر سکے ہے۔" میں نے جواب دیا"میں سپاہی زادہ ہوں۔ تیغ وتفنگ چلانا میرا ہنر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتا۔" گنوار ہنس کر کہنے لگے، نہ بابا یہاں تو ہل چلانا ہوگا۔ گھاس کھودنی پڑے گی۔ ہم نے تلوار کے ہنر کیا کرنے ہیں۔گنوار کے اس جواب سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور جواب دیا:"بھائیو! مجھ کو تو ہل چلانا اور گھاس کھودنی نہیں آتی۔"مجھ کو روتا دیکھ کہ گنواروں کو رحم آگیا اور بولے:"اچھا! تو ہمارے کھیت کی رکھوالی کیا کر اور تیری عورتیں ہمارے گاؤں کے کپڑے سی دیا کریں۔ فصل پر تجھ کو اناج دے دیا کریں گے جو تجھ کو برس دن کو کافی ہوگا۔
"تقدیران کو ٹھوکریں کھلواتی ہےجوتا جوروں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کردیا، جو بیکسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل ہیں جس کی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہریاروں کا شاہ تھا۔ ہم شاہ جہاں کے گھروالے ہیں، جس نے ایک قبر پر جواہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دہلی کے اندر بنادی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبہ میں ہیں۔ ہم عزت والے تھے زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا۔ وہ کیوں سر کشی کرتی ہے۔ آج ہم پر مصیبت ہے،آج ہم پر آسمان روتا ہے۔
جب انگریزی توپوں اور سنگینوں نے ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین لی، تاج سر سے اتار لیا، تخت پر قبضہ کر لیا۔ شہر میں آتش ناک گولیوں کا مینہ برس چکا۔چھوٹے، بن باپ کے بچے ابّاابّا پکارتے ہوئے بے یارومددگار پھرنے لگے۔ حضور ظل سبحانی، جن پر ہم سب کا سہارا تھا، قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے۔اس وقت میں نے بھی بوڑھی والدہ، کمسن بہن اور بیوی کو ساتھ لے کر اور اجڑے قافلہ کا سالار بن کر گھر سے کوچ کیا۔