Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 11 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
شیدی کی پُشت زندگی کا بوجھ اٹھاتے،برداشت کرتے بن چکی تھی:
یہ محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا کیوں...............کررہاہے:
شیدی کے منھ پر پانی کے چھینٹے مار کر لے آئے:
شیدی نے نحیف آواز میں کہا:"میں بھی پہلی صف میں کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا:
لوگوں کو کس کی حفاظت کی فکر لاحق ہوگئی؟
ایک موٹے تگڑے اہل کار نے شیدی کو تھپڑمارتے ہوئے کہا"زندگی بھر کبھی دیکھا ہے:
تمام مخلوق کا شیدی کی طرف ہو گیا:
اہل کاروں نے شیدی کی بنائی:
حفاظتی عملے کے تنخواہ داروں نے خوب قہقہے لگائے۔ایک نے کہا"اس کا دماغ نہیں ہے:
عید نماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے اٹھ کھڑا ہوا:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
حفاظتی عملے نے شیدی کو غیر ملکی ایجنٹ کیوں کہا؟
لوگ شیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنے کے بارے میں بحث کر رہے تھے؟
افسانے کا مرکزی خیال بیان کریں۔
عید گاہ میں بچوں کی کیا حالت بیان کی گئی ہے؟
ماموں خاں موچی کو لوگوں نے کیا کہ کر بھگایا؟
شیدی نے حفاظتی عملے کواپنا کیا نام بتایا؟
شیدی کی حالت اور لباس کی تفصیل بیان کریں؟
پہلی صف میں کون لوگ تشریف فرما تھے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
اچانک شیدی نے چھلانگ لگائی ۔ وہ چیتے کی طرح چھال مارتا، بڑے بڑے ڈگ بھرتا، لوگوں مصلوں، جوتوں اور چپلوں کی کنی قطار میں پھلانگ گیا۔ پہلی صف میں محمود صاحب کے ساتھ شہر کے لائق افسران ، صنعت کار، تاجر اور بینکر کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گرد نیں جھکائے اور دوزانو بیٹھے ہوئے تھے اور اخباری فوٹو گرافروں سے تصاویر کھنچوار ہے تھے۔
شیدی نے انھیں جواب نہیں دیا، نہ ہی گردن موڑ کر ان کی طرف دیکھا۔ پر اسرار روشنی واضح طور پر اس کی آنکھوں میں چک رہی تھی ۔ وہ آگے بڑھ گیا۔ دو قدم اٹھاتا، چھلانگیں مارتا، نمازیوں کی دوچار قطار میں پھلانگ گیا۔ لوگوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جو اونگھ رہے تھے وہ بیدار ہو کر بیٹھ گئے۔
عیدنماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک کالا کلونا شیدی، جس کے بال خشک ، آنکھیں بنجر ، بدن نحیف ونزاراورکپڑوں کے نام پر چیتھڑے پہنے ہوئے تھے؛ وہ نمازیوں کی آخری صف سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ادھیڑ عمر کا طویل قامت شخص تھا۔ اس کے کندھے صلیب کی طرح سیدھے اور سینہ چوڑا تھا۔ اس کی پشت زندگی کا بوجھ اُٹھاتے، برداشت کرتے کمان بن چکی تھی ۔ اس نے لمبی سانس کھینچ کر ایک اڑتی نگاه عید گاہ پر ڈالی ۔