Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 8 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
بڑے چچا بتاتے ہیں کہ انھیں بڑی اچھی دی جا رہی ہے:
عالیہ کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر................کرے کہ وہ نہیں جائے گی:
جمیل بھیا اماں سے کہتے ہیں،میں ابھی تار کیے دیتا ہوں کہ سب:
عالیہ نے اپنے آپ سے پوچھا اور پھر اپنی آواز سن کر رہ گئی:
کون صدمے سے نڈھال ہورہے تھے؟
"کیا تم سچ مچ چلی جاؤ گی چھوٹی دلھن"بڑی دیر چپ رہنے کے بعد پوچھا:
لالٹین کی چمنی ایک طرف سے ہوگئی تھی:
سبق" اور پاکستان بن گیا" کے کردار ہیں:
شبنم سے بھیگی ہوئی رات بڑی ہورہی تھی:
"یہ گھر تمھارا ہے چھوٹی دلھن،مجھے اکیلے نہ چھوڑو" یہ کس نے کہا؟
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
بڑی عالیہ سے کیا پوچھتی ہے؟
جمیل بھیا عالیہ کو کیا نصیحت کرتے ہیں؟
اماں جمیل بھیا سے کیا پوچھتی ہیں؟
بڑے چچا فسادات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
عالیہ کس کو خط لکھنے بیٹھتی ہے؟
عالیہ بڑے چچا سے دل ہی دل میں کی دعا کرتی ہے؟
عالیہ اپنی ماں سے کیا کہتی ہے؟
بڑے چچا نے حالات بہتر ہونے کی امید پر دوبارہ زندگی سنوارتے کے منصوبے بنائے۔ آپ کے خیال میں مشکل حالات میں امید قائم رکھنا کس حد تک ضروری ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
"کون جا رہا ہےپاکستان؟"بڑے چچا نے صحن میں قدم رکھتے ہی بوکھلا کر پوچھا۔انھوں نے اماں کی باتیں سن لی تھیں۔"میں اور عالیہ جائیں گے،اور کسے جانا ہے۔"اماں نے تڑاخ سے جواب دیا۔"کوئی نہیں جا سکتا،میری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں نکال سکتا،کس لیے جاؤ گے پاکستان؟یہ ہمارا ملک ہے،ہم نے قربانیاں دی ہیں اور اب ہم اسے چھوڑکر چلے جائیں؟اب تو ہمارے عیش کرنے کا وقت آرہا ہے۔"بڑے چچا سخت جوش میں تھے۔
"تم میری مقروض ہو،یاد رکھناکہ تم کو یہ قرض چکانا ہوگا،"وہ جانے کے لیے مڑے۔"تم خوش رہوگی نا؟"انھوں نے رک کر پوچھا۔وہ چپ رہی۔جمیل بھیا تھوڑٰ دیر کھڑے رہے اور پھر چلے گئے اور اس نے محسوس کیا کہ اس وقت وہ سب کچھ کھو بیٹھی ہے۔ بڑی دیر تک یوں ہی ٹہلنے کے بعد جب وہ تھک گئی تو چھمی کو خط لکھنے بیٹھ گئی۔اسے یہاں سے جانے کی اطلاع دینی تھی۔
اسرارمیاں بیٹھک میں داخل ہونے کے لیےپٹ کھول رہے تھے۔عالیہ اٹھ کر صحن میں آگئی۔اماں اور بڑی چچی جانے کیا باتیں کر رہی تھیں۔جمیل بھیا اب تک کرسی پر بیٹھے انگلیاں مروڑرہے تھے۔وہ ایک لمحے تک آنگن میں کھڑی رہی اور پھر اوپر چلی گئی۔ شبنم سے بھیگی ہوئی رات روشن ہورہی تھی۔