Your school name
1st Year اُردو لازمی Chapter 9 Test1st Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
استاد منگو اپنی ناک خاکی قمیض سے صاف کرنے کے نعد پھر:
ایک روز استاد منگو نے اپنے تانگے پر ود سواریاں لادیں:
استاد منگو نے نئے قانون کی خوشی میں کلغی کب لی تھی؟
استاد منگو کے منھ سے بہہ رہا تھا:
استاد منگو گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے پیار سے کہتا ہے کہ زرا ہوا سے کر کے دکھادے:
استاد منگو تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر تھوڑی دیر کے بعد تھا:
استاد منگو نے نئی کلغی کس سے لی تھی:
مال روڈ پر تانگہ چلاتے ہوئے استاد منگو کسی سواری سے تبادلہ خیال کر رہاتھا:
استاد منگو نے اسپین کے بارے میں بتایا کہ وہ ہے:
استاد منگو کو نفرت تھی:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
استاد منگو کو انگریزوں سے کیوں نفرت تھی؟
استاد منگو نے گورے کو مارنے کے بعد کیا کہا؟
گالی دینے کے بعد استاد منگو اپنے سر کو جھٹکا دے کر کیا کہتا تھا؟
اڈے پرواپس آکر استاد منگو کو کیا محسوس ہوا؟
استاد منگو نئے قانون کے بارے میں کیا سوچ رکھتا تھا؟
استاد منگو کا غصہ کیسے بڑھااور اس نے گورے کے ساتھ کیا کیا؟
استاد منگو نے انڈیا ایکٹ کو کس کے اثر کا نتیجہ سمجھا؟
استاد منگو انگریزوں کو کیا کہ کر مخاطب کرتا تھا؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
جب نتھو گنجا پگڑی بغل میں دبائے اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا :لا ہاتھ ادھر ۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے ۔ تیری اس گنجی کھوپڑی پر بال اُگ آئیں ۔ اور یہ کہ کر منگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں ۔ دوران گفت گو میں اُس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا: شو د یکھتارہ کیا بنتا ہے ، "یہ روس والا بادشاہ "کچھ نہ کچھ ضرور کر کے رہے گا۔
وہی ہے۔" اس نے یہ الفاظ اپنے منھ کے اندر ہی اندردہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہوگیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی اور خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھا ہوا نشہ تھا۔ اسے طوعاً و کرہا بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے پرزے اڑا دیے ہوتے مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کو جوانوں ہی پر گرتا ہے۔ استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔ ” کہاں جانا مانگٹا ہے؟"
دو مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے، گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ ”سنا ہے پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا یا ہر چیز بدل جائے گی ؟ ہر چیز تو نہیں بدلے گی مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی ۔" کیا بیان کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا ؟"یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے ۔