Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 10 Testنثر نمبر 10: بہادرخان کی سرگزشت

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 10: بہادرخان کی سرگزشت.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 10 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. پروفیسر انور رومان نے میٹرک کا امتحان کہاں سے پاس کیا؟

    1. مغربی پنجاب

    2. مشرقی پنجاب

    3. بلوچستان

    4. سندھ

  2. دھوبی کی پکار سن کر سپاہیوں میں کیا مچ گئی؟

    1. خوشی

    2. لڑائی

    3. صلح

    4. بھگدڑ

  3. دھوبی نے توبہ کر کے کیا فیصلہ کیا؟

    1. گاؤں چھوڑنے کا

    2. ندی نہ جانے کا

    3. باہر نہ جانے کا

    4. کام چھوڑنے کا

  4. بہادر خان کے مطابق اس کے اپنے لوگ اس سے کیا ہیں؟

    1. خوش

    2. ناراض

    3. دور

    4. گریزاں

  5. زندہ بچ جانے والے سپاہی نے کس کو اپنی کہانی سنائی؟

    1. دھوبی کو

    2. ملا کو

    3. رئیس کو

    4. گاؤں والوں کو

  6. پروفیسر انور رومان نے کس یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی؟

    1. کراچی یونیورسٹی

    2. بلوچستان یونیورسٹی

    3. پنجاب یونیورسٹی

    4. پشاور یونیورسٹی

  7. بھوک لگنے پر بہادر خان نے کس کے کھیت کا رخ کیا؟

    1. آم کے

    2. کیلے کے

    3. پالیز کے

    4. چاول کے

  8. نوکر کی موت پر کون روتی پیٹتی واپس آئی؟

    1. بہادر خان کی بیوی

    2. نوکر کی بیوی

    3. جوہان کی بیوی

    4. پڑوسن

  9. بارش کے بعد بنجر کھیت کس سے بھر گئے؟

    1. مٹی سے

    2. گھاس سے

    3. پانی سے

    4. پتھروں سے

  10. سپاہیوں میں سے کتنے لوگ مر گئے؟

    1. ایک

    2. دو

    3. تین

    4. چار

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. ایک دفعہ بہادر خان بھوکا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں فلاں فلاں پالیز (خربوزے وغیرہ کا کھیت) میں چلتا ہوں جو قریب ہی ہے، وہاں سے کچھ خربوزے اور تربوز توڑ کر کھاتا ہوں۔ چناں چہ وہ روانہ ہوا لیکن اس نے دیکھا کہ مُلّا بھی آ رہا ہے۔ اس نے کہا:"خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ لوگ تو مجھ سے پہلے ہی بھاگتے ہیں۔ تمھیں دیکھ کر اور بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔" مُلّا یہ سن کر تھوڑا سا ٹھٹکا لیکن جونہی بہادر خان چلنے لگا مُلّا بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ بہادر خان نے مُلّا کی خوب مرمت کی لیکن اس کے باوجود بہادر خان کے پیچھے لگا رہا۔ بہادر خان نے اسے خوب زدوکوب کیا لیکن مُلّا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر غصے سے بے تاب ہو کر اس نے مُلّا کو قبرستان میں واپس لا کر اس کھاٹ سے باندھ دیا جس پر مُلّا کی لاش آئی تھی اور کہنے لگا:"اب ہلو تو میں تمھیں دیکھوں گا۔" اس کے بعد وہ روانہ ہوا۔

  2. آخر بہادر خان نے لیت و لعل کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ جادوگر نے فوراً کوئی منتر پھونکا کہ بہادر خان جدھر جائے مُلّا بھی اس کے پیچھے پیچھے ادھر ہی جائے۔ جادوگر تو اس کے بعد غائب ہو گیا لیکن مُلّا سائے کی طرح بہادر خان کے ساتھ چپک گیا۔ وہ جدھر جاتا مُلّا بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتا۔ بہادر خان نے سوچا:"میں نے اپنے اوپر ایک اور عذاب مسلط کر لیا کہ میں جدھر جاتا ہوں مُلّا بھی ادھر ہی جاتا ہے۔ لوگ مجھے دیکھ کر ڈر رہے ہیں کہ میں نے مردہ مُلّا کو زندہ کر دیا ہے۔"

  3. کچھ دن بعد بہادر خان اپنی سیال داریوں سے خلاصی پا کر اپنے گھر کو واپس ہوا اور نیم شب کے قریب گھر پہنچا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی بیوی ماتم کر رہی ہے اور رو رہی ہے۔ بیوی نے اسے دیکھا یا اور سمجھی کہ اس کا شوہر مردہ سے زندہ ہو کر واپس آیا ہے تا کہ اسے بھی اپنے ساتھ لے جائے۔ پس اس نے ایک چیخ ماری اور سارے تومان (قبیلے) کو بتانے کے لیے باہر بھاگی۔ ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ بہت سے پہاڑوں میں چھپ گئے۔ کچھ نے اپنے کندھوں پر اپنی اپنی بندوقیں رکھ لیں۔ کچھ نے بغلوں میں تلواریں لٹکالیں اور سینوں پر ڈھال جما لیے اور بہت سوں نے ڈنڈے سنبھال لیے اور "جوانو! پکڑ لو، جانے نہ پائے" کہہ کر بے چارے بہادر خان کا تعاقب کرنے لگے۔ بہادر خان چار و ناچار بھوکا اور پیاسا ایک قبرستان میں شب بسری کے لیے چھپ گیا اور تارے گن گن کر صبح کا انتظار کرنے لگا۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر لوگوں نے اسے بھوت پریت کیوں سمجھا۔ شاید اس لیے کہ وہ رات کے وقت اپنے گھر پہنچا تھا۔ بہر حال اسے یقین تھا کہ اس کے لوگ صبح کو اس کو پہچان لیں گے۔ اس امید پر اس نے رات مُردوں کے قریب گزاردی۔