Your school name
2nd Year اُردو لازمی Chapter 8 Test2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے منظر کا حصہ بن جاتے ہیں:
میں نے جیب سے نوٹ نکالا:
اقبال پارک کے جنوب میں کیا چیز واقع ہے؟
مینار کی بلندی کی طرف مائل کیا تھا؟
اسکول کے طالب علم نے لنکا کے جزیرے کو نقشے میں کیا سمجھا تھا؟
دفاعی مینار پر چڑھنے کی حسرت مصنف نے کس ملک کے قبائلی علاقے میں پوری کی؟
مصنف جب نزدیک جانا چاہا تو اسے کس نے سختی سے روک دیا؟
طوفان آنے پر اہل مینار کا دنیا سے کیا منقطع ہو جاتا ہے؟
بحری جہاز کے عرشے پر کس جزیرے کے جنوبی حد کے پاس سے گزرنے کا اعلان ہوا؟
ٹرانسسٹر پر کس صدی کا گانا بج رہا تھا؟
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
میں نے ایک اور روشن مینار بھی دیکھا ہے۔ پہلے تو یہ میرے ذہن میں نقشے پر لگے ہوئے ایک نقطے کی صورت میں محفوظ رہا اور پھر ایک دن آنکھیں جھپکیں تو وہ نقطہ مینار بن چکا تھا۔ ایشیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو سائبیریا سے لنکا تک خشکی نظ خشکی نظر آتی ہے۔ لنکا کے جزیرے کی شکل نقشے میں دیکھی تو گمان گزرا جیسے قدرت کی آنکھوں سے خشکی کا آخری قطرہ ٹپک کر سمندر میں گر پڑا ہو۔ اس جزیرے کی جنوبی حد ہمارے نقشے میں زمین کی آخری حد تھی۔ اسکول کے طالب علم نے سوچا کہ خشکی کی اس حدِ آخر پر کھڑا ہو کر اگر یہ کہیں کہ ایشیا میرے قدموں میں سائبیریا تک پھیلا ہوا ہے تو یہ بات جغرافیے کی رُو سے درست اور تاریخ کی رُو سے نا درست ہوگی۔ یہ خیال نہ جانے کب آیا اور کتنے سال لاشعور میں گم رہنے کے بعد ایک دن مسکراتا ہوا میرے سامنے آگیا۔ میں ایک بحری جہاز کے عرشے پر کھڑا تھا، اعلان ہوا کہ اب ہم لنکا کے گرد گھومتے ہوئے جزیرے کی جنوبی حد کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ میری آنکھوں میں چمک آگئی ، سامنے جزیرے کے آخری ساحل پر ایک روشن مینار دمک رہا تھا۔
سمندر کے کنارے جو مینار نشانِ راہ کے طور پر بنائے جاتے ہیں ان کے بالائی حصے رات کو روشن رہتے ہیں اس لیے انہیں روشن مینار کہتے ہیں۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ یہ مینار طوفانی علاقوں میں خطرناک چٹانوں پر بنائے جاتے ہیں اور ان میں رات کو روشنی کرنے والے کی زندگی جفاکشی اور تنہائی سے عبارت ہے۔ اگر طوفان آ جائے تو دنوں تک اہلِ مینار کا تعلق دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے۔ میں ایک ایسا ہی روشن مینار دیکھنے گیا۔ ہر چیز بدل چکی تھی، روشنی اب تیل سے نہیں بلکہ گیس اور بجلی سے کی جاتی ہے، مینار والے کی نوکری تخفیف میں آ چکی ہے۔ اب ان میناروں کو کسی رکھوالے کی ضرورت نہیں رہی۔ سبکسارانِ ساحل شام کو بٹن نیچے کر دیتے ہیں اور صبح کو اوپر۔ آہستہ آہستہ پرانے بادہ کش اٹھتے جا رہے ہیں۔ ترقی نے انفرادی صفات کے اظہار کی کتنی ہی راہیں بند کر دی ہیں اور شجاعت زندگی کے کتنے ہی شعبوں میں غیر ضروری بلکہ مضر قرار دے دی گئی ہے۔
ایک دن ہم دیوار کی طرف روانہ ہوئے، سڑک میدان سے گزر کر پہاڑی سلسلے میں داخل ہو چکی تھی۔ دُور سے ایسا معلوم ہوا کہ جہاں پہاڑ اور افق ملتے ہیں وہاں کسی نے سیاہ پنسل سے ایک مدہم سی لکیر لگا دی ہے۔ کچھ اور آگے گئے تو دُور تک سلسلہ کوہ سنجافی نظر آیا۔ نزدیک پہنچے تو یہ مدہم سی لکیر حیرت کدہ ہنر بن گئی اور جسے ہم نے سنجاف سمجھا تھا وہ ایک سنگلاخ حقیقت نکلی۔ دیوار عمود وار ایک پہاڑی پر چڑھتی تھی اور چوٹی پر ایک دفاعی مینار بنا ہوا تھا۔ میں نے جیب سے پچاس یوآن کا نوٹ نکالا اور ساتھیوں سے کہا کہ یہ انعام مینار پر سب سے پہلے پہنچنے والے کو ملے گا۔ سبھی بھاگ پڑے اور میں نے جانا کہ یہ نوجوان بھی پسماندہ ملکوں کی طرح زرِ مبادلہ کی دوڑ میں شریک ہو گئے ہیں۔ ذرا سی دیر میں بھاگنے والوں کا دم پھول گیا اور وہ ایک ایک کر کے فرش پر بیٹھ گئے۔ مینار اب بھی اتنا ہی دُور نظر آتا تھا اور اگر اس میں یہ خوبی نہ ہوتی تو اب تک دیوارِ چین میں کئی بار نقب لگ چکی ہوتی۔