Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 5 Testنثر نمبر 5: کافی

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 5: کافی.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 5 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. مصنف نے سنا ہے کہ چائے کے بڑے خوبصورت کیا ہوتے ہیں؟

    1. پودے

    2. کھیت

    3. باغ

    4. جنگل

  2. کافی کا جلا چائے بھی پیتا ہے:

    1. ٹھنڈی کر کے

    2. سونگھ سونگھ کر

    3. پھونک پھونک کر

    4. انتہائی گرم

  3. کس چیز کی عادت کو ذوق میں تبدیل کرنے کے لیے بڑا پِتّا مارنا پڑتا ہے؟

    1. چائے کی

    2. بدذائقہ کھانے

    3. سگریٹ کی

    4. کافی کی

  4. مشتاق احمد یوسفی صاحب کے والد کا نام کیا تھا؟

    1. عبدالکریم خان

    2. عبدالرحیم خان

    3. محمد علی خان

    4. احمد خان

  5. کافی قومی مشروب ہے:

    1. آسٹریلیا کا

    2. امریکہ کا

    3. کینیا کا

    4. برطانیہ کا

  6. مصنف کے مشرب میں کیا چیز گناہ ہے؟

    1. جھوٹ بولنا

    2. کج بحثی

    3. دانستہ دل آزاری

    4. کافی پینا

  7. مصنف بچپن سے ہی کن دواؤں کا عادی رہا ہے؟

    1. انگریزی

    2. یونانی

    3. ہومیو پیتھک

    4. دیسی جڑی بوٹیوں

  8. امریکہ میں کس قسم کے مریضوں کو بشاش رکھنے کے لیے کافی پلائی جاتی ہے؟

    1. لا علاج

    2. زکام کے

    3. معمولی

    4. دل کے

  9. یوپی میں لوگ "شرفا بڑی رغبت سے" کیا کھاتے ہیں؟

    1. چاول

    2. شلغم

    3. کباب

    4. دھنگار

  10. مصنف کے مطابق نمیرہ گاؤ زبان کس کے بغیر راشن کارڈ کے شکر حاصل کرنے کا طریقہ ہے؟

    1. پیسے

    2. پرچی

    3. سفارش

    4. جوشاندہ

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتِ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!! لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔ لہذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:”ایک چمچہ یا دو؟“تو مجبوراً یہی گزارش کرتا ہوں کہ ”میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچے ڈال دیجئے۔“

  2. کافی

  3. آپ کے ذہن میں خدانخواستہ یہ شبہ نہ پیدا ہو گیا ہو کہ راقم السطور کافی کے مقابلے میں چائے کا طرف دار ہے تو مضمون ختم کرنے سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں کافی سے اس لیے بے زار نہیں ہوں کہ مجھے چائے عزیز ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافی کا جلا چائے پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس! ایک وہ ہیں کہ جنہیں ”چائے“ کے ارماں ہوں گے