Your school name
2nd Year اُردو لازمی Chapter 4 Test2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
میاں نے ماں جی کو کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں عطا کیں؟
ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو سامنے کیا آتا ہے؟
قدرت اللہ شہاب کا انتقال کس سال ہوا؟
لائل پور کے مربع داروں میں کس کی بڑی دھوم اور عزت تھی؟
سہیلیوں نے چھیڑ چھاڑ کر عبد اللہ صاحب سے کتنے کتنے روپے وصول کیے؟
سر سید نے عبد اللہ صاحب کو وظیفہ دے کر کہاں بلا لیا؟
قدرت اللہ شہاب ہالینڈ میں پاکستان کے کس عہدے پر فائز رہے؟
قدرت اللہ شہاب نے کس مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی؟
ماں جی کے دل میں کس قسم کے ور کی خواہش تھی؟
لائل پور، جھنگ اور سرگودھا وغیرہ کو عرفِ عام میں کیا کہا جاتا تھا؟
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
کھانے پینے میں وہ کپڑے لتے سے بھی زیادہ سادہ اور غریب مزاج تھیں۔ ان کی مرغوب ترین غذا مکئی کی روٹی، دھنیے پودینے کی چٹنی کے ساتھ تھی۔ باقی چیزیں خوشی سے تو کھا لیتی تھیں لیکن شوق سے نہیں۔ تقریباً ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں۔ پھلوں میں بہت ہی مجبور کیا جائے تو کبھی کبھار کیلے کی فرمائش کرتی تھیں۔ البتہ ناشتے میں چائے دو پیالے اور تیسرے پہر سادہ چائے کا ایک پیالہ ضرور پیتی تھیں۔ کھانا صرف ایک وقت کھاتی تھیں، اکثر و بیشتر دوپہر کا، شاذ و نادر رات کا۔ گرمیوں میں عموماً مکھن نکالی ہوئی پتلی نمکین لسی کے ساتھ ایک آدھ سادہ چپاتی ان کی محبوب خوراک تھی۔
”کیا تم اپنی بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟“ سر سید نے کڑک کر پوچھا۔ ”جی ہاں!“ عبد اللہ صاحب نے جواب دیا۔ یہ ٹکا سا جواب سن کر سر سید آپے سے باہر ہو گئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے پہلے انہوں نے عبد اللہ صاحب کو لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور جوتوں سے خوب پیٹا اور کالج کی نوکری سے برخواست کر کے یہ کہ کر علی گڑھ سے نکال دیا، ”اب تم ایسی جگہ جا کر مرو جہاں سے میں تمہارا نام بھی نہ سُن سکوں۔“ عبد اللہ صاحب جتنے سعادت مند بیٹے تھے، اتنے ہی سعادت مند شاگرد بھی تھے۔ نقشے پر انھیں سب سے دُور افتادہ اور دشوار گزار مقام گلگت نظر آیا۔ چناں چہ وہ ناک کی سیدھ میں گلگت پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی گورنری کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ جن دنوں ماں جی کی منگنی کی فکر ہو رہی تھی انھی دنوں عبد اللہ صاحب بھی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ قسمت میں دونوں کا سنجوگ لکھا ہوا تھا۔ ان کی منگنی ہوگئی اور ایک ماہ بعد شادی بھی ٹھہر گئی تاکہ عبد اللہ صاحب دلہن کو اپنے ساتھ گلگت لے جائیں۔
منگنی کے بعد ایک روز ماں جی اپنی سہیلیوں کے ساتھ پاس والے گاؤں میں میلہ دیکھنے گئی ہوئی تھیں۔ اتفاقاً یا شاید دانستہ عبد اللہ صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ ماں جی کی سہیلیوں نے انھیں گھیر لیا اور ہر ایک نے چھیڑ چھیڑ کر ان سے پانچ پانچ روپے وصول کر لیے۔ عبد اللہ صاحب نے ماں جی کو بھی بہت سے روپے پیش کیے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ بہت اصرار بڑھ گیا تو مجبوراً ماں جی نے گیارہ پیسے کی فرمائش کی۔ ”اتنے بڑے میلے میں گیارہ پیسے لے کر کیا کرو گی؟“ عبد اللہ صاحب نے پوچھا۔ ”اگلی جمعرات کو آپ کے نام سے مسجد میں تیل ڈال دوں گی۔“ ماں جی نے جواب دیا۔ زندگی کے میلے میں بھی عبد اللہ صاحب کے ساتھ ماں جی کا لین دین صرف جمعرات کے گیارہ پیسوں تک ہی محدود رہا۔ اس سے زیادہ رقم نہ کبھی انھوں نے مانگی نہ اپنے پاس رکھی۔