Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 3 Testنثر نمبر 3: ہجرت حبشہ

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 3: ہجرت حبشہ.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 3 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. "رابطہ عالم اسلامی" (مکہ مکرمہ) کی طرف سے سیرت النبیﷺ پر پہلا عالمی مقابلہ کس سال منعقد ہوا؟

    1. ١٩٧٢ء

    2. ١٩٧٤ء

    3. ١٩٧٦ء

    4. ١٩٧٩ء

  2. مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے:

    1. بہت بڑا خزانہ

    2. سونے کا پہاڑ

    3. سیم و زر

    4. قیمتی گھوڑے

  3. مسلمانوں نے ہجرت کی مکہ مکرمہ سے:

    1. عراق کی طرف

    2. حبشہ کی طرف

    3. یمن کی طرف

    4. شام کی طرف

  4. جاؤ! تم لوگ امن و امان سے رہو، میرے:

    1. شہر میں

    2. علاقے میں

    3. قلمرو میں

    4. صوبے میں

  5. نجاشی کے دربار میں حاضر ہو کر قریشی سفیروں نے مسلمانوں کو کن الفاظ سے پکارا؟

    1. ناسمجھ نوجوان

    2. باغی سپاہی

    3. معزز مہمان

    4. غریب پناہ گزین

  6. کتاب "الرحیق المختوم" اصلاً کس زبان میں لکھی گئی تھی؟

    1. اردو

    2. فارسی

    3. عربی

    4. انگریزی

  7. نجاشی نے قریش کے سفیروں کو مسلمانوں کے متعلق کیا حکم دیا؟

    1. مسلمانوں کو لے جاؤ

    2. تم دونوں چلے جاؤ

    3. یہاں انتظار کرو

    4. مسلمانوں سے جنگ کرو

  8. مسلمان حبش میں کس کے زیرِ سایہ مقیم رہے؟

    1. مکہ کے قبیلوں کے

    2. نجاشی کے

    3. شاہی فوج کے

    4. رومی تاجروں کے

  9. مولانا صفی الرحمن مبارک پوری کب پیدا ہوئے؟

    1. ٦ جون ١٩٣٢ء

    2. ٦ جون ١٩٤٢ء

    3. ٦ جون ١٩٤٣ء

    4. ٦ جون ١٩٣٣ء

  10. تلاوت سن کر کس کے صحیفے آنسوؤں سے تر ہو گئے؟

    1. قریش کے سفیروں کے

    2. شاہی سپاہیوں کے

    3. اسقفوں کے

    4. مسلمانوں کے

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے، پھر کہا: ”ہم نے اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو سچا مانا، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ خداوندی میں اس کی پیروی کی۔ چناں چہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے حرام بتایا انھیں حرام مانا، اور جن کو حلال بتایا انھیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انھیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انھوں نے ہم پر بہت قہر و ظلم کیا، زمین تنگ کر دی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔ اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

  2. ہجرتِ حبشہ

  3. مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے بادشاہ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بُت پوجتے تھے، قرابت داروں سے تعلق توڑتے تھے، ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقت ور کمزور کو کھا رہا تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی، سچائی، امانت اور پاک دامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انھیں چھوڑ دیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے، قرابت جوڑنے، پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور خون ریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز، روزہ اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔“