Your school name
2nd Year اُردو لازمی Chapter 9 Test2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
میر امن کی سب سے اہم اور شہرت یافتہ تصنیف کون سی ہے؟
میر امن کا خاندان کس دربار سے وابستہ تھا؟
میر امن دہلوی کس شہر میں پیدا ہوئے؟
نوفل کو حاتم سے کس وجہ سے دشمنی ہوئی؟
حاتم کو تُرَنت کس نے پکڑ لیا؟
فقر کا پہلا حرف 'ف' کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟
دوسرے درویش نے اپنی سیر کا احوال سنایا:
فقیر نے چالیسویں دروازے سے کتنی اشرفیاں مانگیں؟
سخی کا پہلا حرف 'س' کس معنی کو ظاہر کرتا ہے؟
نوفل نے حاتم کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
اے دَلق پوشو! یہ عاجز بادشاہ زادہ فارس کے ملک کا ہے، ہر فن کے آدمی وہاں پیدا ہوتے ہیں، چناں چہ "اصفہان، نصفِ جہان" مشہور ہے۔ ہفت اِقلیم میں اس اِقلیم کے برابر کوئی ولایت نہیں، کہ وہاں کا ستارہ آفتاب ہے، اور وہ ساتوں کواکب میں نیرِِّ اعظم ہے۔ آب و ہوا وہاں کی خوش، اور لوگ روشن طبع اور صاحبِ سلیقہ ہوتے ہیں۔ میرے قبلہ گاہ نے (جو بادشاہ اس ملک کے تھے) لڑکپن سے، قاعدے اور قانونِ سلطنت کے تربیت کرنے کے واسطے، بڑے بڑے دانا استاد، ہر ایک علم اور کسب کے چُن کر، میری اتالیقی کے لیے مقرر کیے تھے، تو تعلیمِ کامل ہر نوع کی پا کر، قابل ہوں۔ خدا کے فضل سے چودہ برس کے سِن و سال میں سب علم سے ماہر ہوا۔ گفت گو معقول، نشست و برخاست پسندیدہ اور جو کچھ بادشاہوں کو لائق اور درکار ہے، سب حاصل کیا۔ اور یہی شوق شب و روز تھا کہ قابلوں کی صحبت میں قصّے ہر ایک ملک کے اور احوال اولوالعزم بادشاہوں اور نام آوروں کا سنا کروں۔
ایک روز ایک بوڑھا اور اس کی بڑھیا دو تین بچے چھوٹے چھوٹے ساتھ لیے ہوئے لکڑیاں توڑنے کے واسطے، اس غار کے پاس، جہاں حاتم پوشیدہ تھا، پہنچے اور لکڑیاں اس جنگل سے چننے لگے۔ بڑھیا بولی کہ اگر ہمارے دن کچھ بھلے آتے تو حاتم کو کہیں دیکھ پاتے اور اس کو پکڑ کر نوفل کے پاس لے جاتے تو وہ پانچ سو اشرفی دیتا اور ہم آرام سے کھاتے، اس دُکھ دھندے سے چھوٹ جاتے۔ بوڑھے نے کہا: ہمارے طالع میں یہی لکھا ہے کہ روز لکڑیاں توڑیں اور سر پر دھر کر بازار میں بیچیں تب لون روٹی میسر آوے یا ایک روز جنگل سے باغ لے جاوے۔ لے اپنا کام کر۔ ہمارے ہاتھ حاتم کا ہے کو آوے گا اور بادشاہ سے اتنے روپے دلاوے گا! عورت نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپکی ہو رہی۔یہ دونوں کی باتیں حاتم نے سنیں۔ مردمی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔ سچ ہے کہ اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں اور جس کے جی میں درد نہیں وہ قصائی ہے۔دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں۔
ایک روز ایک مصاحبِ دانا نے کہ خوب تواریخ داں اور جہاں دیدہ تھا، مذکور کیا کہ اگرچہ آدمی کی زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، لیکن اکثر وصف ایسے ہیں کہ ان کے سبب سے انسان کا نام قیامت تک زبانوں پر بخوبی چلا جائے گا۔ میں نے کہا: اگر تھوڑا سا احوال اس کا مفصل بیان کرو تو میں بھی سنوں اور اس پر عمل کروں۔ تب وہ شخص حاتم طائی کا ماجرا اس طرح سے کہنے لگا کہ حاتم کے وقت میں ایک بادشاہ عرب کا نوفل نام تھا۔ اس کو حاتم کے ساتھ بہ سبب نام آوری کے، دشمنی کمال ہوئی۔ بہت سا لشکر فوج جمع کر کر، لڑائی کی خاطر چڑھ آیا۔ حاتم تو خدا ترس اور نیک مرد تھا، یہ سمجھا کہ اگر میں بھی جنگ کی تیاری کروں تو خدا کے بندے مارے جائیں گے اور بڑی خوں ریزی ہوگی۔ اس کا عذاب میرے نام لکھا جائے گا۔ یہ بات سوچ کر تنِ تنہا اپنی جان لے کر ایک پہاڑ کی کھوہ میں جا چھپا، جب حاتم کے غائب ہونے کی خبر نوفل کو معلوم ہوئی، سب اسباب گھر بار حاتم کا قُرق کیا اور منادی کروا دی کہ جو کوئی ڈھونڈھ ڈھانڈھ کر پکڑ لاوے پانچ سو اشرفی بادشاہ کی سرکار سے انعام پاوے، یہ سن کر سب کو لالچ آیا اور جستجو حاتم کی کرنے لگے۔