Your school name
2nd Year اُردو لازمی Chapter 7 Test2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
جنتی نہ ہونے کی بات سن کر بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے کیا چھا گیا؟
غوث بہار نے بلوچی زبان پر کل کتنی کتابیں شائع کیں؟
دوسرے نوجوان نے رجسٹر میں تلاش کے بعد بوڑھے کا کیا نام پڑھا؟
کالے شخص کے مطابق کنویں میں موجود لوگوں کی کیا مسخ ہو چکی تھی؟
"محشر" میں سورج کے لیے کیا محاورہ استعمال ہوا ہے؟
افسانہ "محشر" کا اردو زبان میں ترجمہ کس نے کیا؟
بوڑھے نے دور سے کیا جلتی ہوئی دیکھی؟
یکایک دور سے کیا اٹھتی ہوئی نظر آنے لگی؟
اعراف کن لوگوں کی جگہ ہے جو چند سال وہاں گزارنے کے بعد کہاں جاتے ہیں؟
"محشر" میں دن کا کون سا وقت بتایا گیا ہے؟
Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
”آپ کون ہیں اور یہاں کیسے آئے ہیں؟“ کالے شخص نے بوڑھے سے دریافت کیا۔”جائیے یہاں سے چلے جائیے ، یہ کوئی اچھی جگہ نہیں ہے ۔۔۔“”میں سو گیا تھا۔ حساب کتاب سے رہ گیا تھا۔ جنت اور اعراف میں میرا نام نہیں تھا۔ اب آپ مہربانی کر کے اپنے رجسٹر میں دیکھیں، کہ میرا نام اس میں ہے کہ نہیں۔ میرا نام۔۔۔“”یہاں کوئی رجسٹر وجسٹر نہیں ہے بابا!“ بوڑھے کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کالے شخص نے بتایا، ”جس کے گناہ اس کے ثواب سے زیادہ ہوں، اُس کی جگہ یہی ہے۔۔۔ یہاں نام کے ذریعے کوئی نہیں آتا۔ لیکن آپ کیسے آئے ہیں؟ یہاں تو ہر کسی کو فرشتے لاتے ہیں اور آگ سے بھرے ہوئے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔“”میں حیران ہوں،“ بوڑھے نے کہا، ”دنیا میں میری ایک بڑی قوم تھی لیکن یہاں تو میری قوم کا ایک فرد بھی نظر نہیں آتا؟ شاید مجھ سے پہلے آئے ہیں۔ اگر میں انھیں دیکھ لیتا تو مجھے اپنی جگہ کا بھی پتا چل جاتا۔ آپ مہربانی کر کے مجھے وہ کنویں تو دکھا دیں، جہاں آپ کے بقول فرشتے لوگوں کو لا کر پھینک دیتے ہیں۔“
پھر کچھ دیر بعد اس نے خود ہی کہا:”تھوڑا صبر کریں، آپ کا نام جنتیوں کے رجسٹر میں دیکھ لوں۔۔۔ شاید خدا نے آپ پر رحم کیا ہو اور آپ کو جنتیوں میں شامل کیا ہو۔ بے شک وہ بڑا رحیم اور مہربان ہے ۔۔۔“ نوجوان رجسٹر میں اس کا نام تلاش کرنے لگا۔”جناب! آپ کا کیا نام ہے؟“ نوجوان نے دریافت کیا۔”میرا۔۔۔ میرا نام، میرا نام کلیڈ ہے۔“”آپ کے باپ کا نام؟“ نوجوان نے ایک بار پھر دریافت کیا۔”میرے باپ کا۔۔۔ میرے باپ کا نام ٹہلو ہے جناب!“ بوڑھے نے جواب دیا۔”آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟“ نوجوان نے تیسرا سوال پوچھا۔بوڑھے نے جو پسینے سے شرابور تھا اور اپنے ننگے پاؤں گرمی کے باعث بار بار اٹھا رہا تھا، پھر جواب دیا۔ ”جناب۔۔۔ میں پنچیں کرز بلوچستان کا رہنے والا ہوں اور میری عمر ستر سال ہے۔۔۔“ اس نے اپنی عمر پوچھے بغیر ہی بتا دی۔
کالا شخص حیرت سے بوڑھے کو دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس نے اپنی قوم کو کس طرح پہچان لیا۔ پھر اس نے پوچھا:”آخر آپ کی قوم کی شناخت کیا ہے؟ ان لوگوں کی شکلیں تو مسخ ہو چکی ہیں اور کھالیں تک اتر چکی ہیں، اس حالت میں آپ نے کیونکر انھیں پہچان لیا؟“”آپ کی بات درست ہے۔۔۔“ بوڑھے نے جواب دیا، ”لیکن قوم شکل سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ دیکھیے، ہر فرد اسی کوشش میں ہے کہ کنویں سے باہر نکل جائے۔ جب ایک فرد کنویں کے کنارے تک پہنچ جاتا ہے اور باہر نکلنے ہی والا ہوتا ہے تو دوسرے افراد اس کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہیں اور اسے دوبارہ کنویں میں گرا دیتے ہیں تاکہ وہ نکل نہ جائے کیوں کہ اس سے دوسرے افراد پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ کردار دنیا میں میری قوم کے سوا اور کسی قوم کا نہ تھا۔ مجھے جانے دو اسی کے پاس، کہ یہی ہے میری قوم!“