Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 6 Testنثر نمبر 6: رستم وسہراب

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 6: رستم وسہراب.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 6 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. آغا حشر نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کس اسکول میں داخلہ لیا؟

    1. علی گڑھ ہائی اسکول

    2. راج نارائن ہائی اسکول

    3. گورنمنٹ اسکول

    4. مسلم ہائی اسکول

  2. سہراب کو افسوس تھا کہ اس کی آنکھوں کے نصیب میں کس کا دیدار نہ تھا؟

    1. ماں کا

    2. باپ کا

    3. بھائی کا

    4. بادشاہ کا

  3. سہراب نے اپنی ماں کا نام کیا بتایا؟

    1. گردآفرید

    2. رودابہ

    3. تہمینہ

    4. سودابہ

  4. سہراب کے مطابق رستم کس کے خاندان کا چراغ بجھا چکا ہے؟

    1. افراسیاب

    2. سام و نریمان

    3. کیکاؤس

    4. آغا حشر

  5. سہراب کس کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے؟

    1. ماں کی

    2. رستم کی

    3. ہجیر کی

    4. اپنی بیوی

  6. شیکسپیئر کے ڈراموں سے اثر قبول کرنے کی وجہ سے آغا حشرکو کیا کہا جاتا ہے؟

    1. اردو کا شیکسپیئر

    2. خدائے سخن

    3. طوطیِ ہند

    4. مصورِ غم

  7. رستم کس ملک کا ایرانی ہیرو یا پہلوان ہے؟

    1. ایران

    2. توران

    3. سمنگان

    4. یونان

  8. "رستم و سہراب" ڈرامے کے مطابق افراسیاب کہاں کا شہنشاہ ہے؟

    1. ایران کا

    2. توران کا

    3. سمنگان کا

    4. مصر کا

  9. آغا حشر کاشمیری کس سال پیدا ہوئے؟

    1. ١٨٧٠ء

    2. ١٨٧٥ء

    3. ١٨٧٩ء

    4. ١٨٨٥ء

  10. تہمینہ کا رستم سے کیا رشتہ تھا؟

    1. بیٹی

    2. بہن

    3. بیوی

    4. ماں

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. رستم و سہراب

  2. آہ! جوانی کا چراغ آخری ہچکی لے کر بجھ گیا، بے رحم موت نے میری امید کی روشنی لوٹ لی۔ اب لاکھوں چاند، ہزاروں سورج مل کر بھی میرے غم کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے۔ آسمان ماتم کر، زمین چھاتی پیٹ۔ درختو، پہاڑو، ستارو ٹکرا کر چور چور ہو جاؤ آج ہی زندگی کی قیامت ہے۔ آج ہی دنیا کا آخری دن ہے۔ زندگی! دنیا!! کہاں ہے زندگی؟ کہاں ہے دنیا؟ زندگی سہراب کے خون میں اور دنیا رستم کے آنسوؤں میں ڈوب گئی۔ (دیوانوں کی طرح پکارتا ہے) سہراب سہراب سہراب !! (غش کھا کر گر پڑتا ہے سین بدل کر بہشت ہو جاتا ہے، فرشتے آسمان سے سہراب کی لاش پر پھول برساتے ہیں)

  3. پروردگار! میں نے کبھی تیرے قہر و غضب کو حقیر نہیں سمجھا۔ کبھی تیری طاقت کے سامنے اپنی فانی طاقت کا غرور نہیں کیا۔ پھر اس ذِلّت کی شکل میں تو نے مجھے میرے کس گناہ کی سزا دی ہے؟ اے دردمندوں کی دوا، اے کمزوروں کی قُوّت، اے ناامیدوں کی اُمید! میں نے کل ساری رات تیرے حضور میں سجدہ ہائے نیاز کے ساتھ آنسو بہا کر مدد کے لیے التجا کی ہے۔ اپنے عاجز بندے کی التجا قبول کر۔ اس بڑھاپے میں دنیا کے سامنے میری شرم رکھ اور ایک بار میری جوانی کا زور و جوش مجھے دوبارہ واپس دے دے۔