Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 11 Testنثر نمبر 11: حکیم احسن اللہ خان

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 11: حکیم احسن اللہ خان.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 11 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. شمس الرحمن فاروقی کب پیدا ہوئے؟

    1. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۰ء میں

    2. ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء میں

    3. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۰ء میں

    4. ۳۰ ستمبر ۱۹۴۵ء میں

  2. مرض کی نوعیت سمجھنے کے لیے حکیم صاحب کے لیے کیا کافی تھا؟

    1. چہرہ دیکھنا

    2. نبض دیکھنا

    3. بات سننا

    4. آنکھیں دیکھنا

  3. ولیم فریزر کے فرستادہ لوگ کس وقت مطب میں داخل ہوئے؟

    1. صبح سویرے

    2. شام کے وقت

    3. دوپہر کے شروع میں

    4. آدھی رات کو

  4. فریزر نے حکیم صاحب کی تعظیم کے لیے کس طرح کھڑے ہو کر استقبال کیا؟

    1. پورا کھڑے ہو کر

    2. نیم قد کھڑے ہو کر

    3. جھک کر

    4. بالکل کھڑا نہ ہوا

  5. فریزر کی رعونت اور جابرانہ گھمنڈ کس کا خاصہ تھا؟

    1. نواب کا

    2. بادشاہ کا

    3. فرنگی مزاج کا

    4. حکیم صاحب کا

  6. حکیم صاحب کے سانولے چہرے پر کس چیز کے ہلکے ہلکے داغ تھے؟

    1. چوٹ کے

    2. چیچک کے

    3. جلنے کے

    4. جھائیوں کے

  7. قالین پر حکیم صاحب کس انداز میں بیٹھتے تھے؟

    1. چوکڑی مار کر

    2. دوزانو ہو کر

    3. تکیہ لگا کر

    4. سیدھے ہو کر

  8. بہادر شاہ کی بادشاہی کے زمانے میں کس سال صلح صفائی کی کوشش کی گئی؟

    1. ۱۸۴۵ء میں

    2. ۱۸۴۶ء میں

    3. ۱۸۴۷ء میں

    4. ۱۸۳۶ء میں

  9. حکیم صاحب کی باتیں سن کر نواب شمس الدین نے کس کے خلاف دھمکیوں کا اظہار کیا؟

    1. کمپنی کے

    2. فریزر کے

    3. بادشاہ کے

    4. دھوبی کے

  10. بادشاہ نے کس کے سامنے اپنی خفگی ظاہر کرنا بہتر نہ سمجھا؟

    1. فریزر کے

    2. نواب کے

    3. نوکر کے

    4. حکیم صاحب کے

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. فریزر نے آنکھ اٹھا کر حکیم صاحب کو دیکھا۔ اس کے پہلے کہ وہ انھیں بیٹھنے کا اشارہ کرے، حکیم صاحب اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کر کے خود ہی پاس والی صندلی پر متمکن ہو گئے۔ فریزر نے اشارے سے تمام نوکروں کو رخصت کیا، نیم قد کھڑے ہو کر حکیم صاحب کی تعظیم کی اور کہا:”عُمدۃ الملک! آپ تشریف لائے، میں بہت ممنون ہوں۔“حکیم صاحب نے کچھ جواب نہ دیا، صرف سر کو خفیف سا خم کیا، گویا کہ رہے ہوں کہ ٹھیک ہے، میں آپ کے بلاوے پر آ گیا لیکن یہ تکلفات نہ کیجیے، برسرِ مطلب آئیے۔ فریزر نے ایک لمحہ انتظار کیا لیکن جب دیکھا کہ حکیم صاحب کو رسمی گفتگو میں دلچسپی نہیں، تو اس نے مزید کہا:”عُمدۃ الملک! آپ کی مدبّرانہ لیاقت اور سوجھ بوجھ کے سب قائل ہیں۔“اب حکیم صاحب کو کچھ جواب دیتے ہی بنی۔ انھوں نے آداب بجالا کر کہا، ”نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کرم گستری اور قدر افزائی ہے۔“فریزر نے مسکرا کر کہا: ”آپ کو آج زحمت دہی کا سبب یہی ہے۔“

  2. ”اس اعتماد کے لیے میں صاحب کلاں بہادر کا ممنون ہوں لیکن نہ تو میرا شمس الدین احمد پر کوئی داب یا اثر ہے اور نہ یہ میرا منصب ہے کہ میں ان کے پاس آپ کا پیغام لے جاؤں۔“”کیوں، منصب کیوں نہیں؟“ فریزر نے سرکہ جبیں ہو کر کہا: ”کیا آپ سرکار کمپنی بہادر کے وفادار نہیں ہیں؟“”خطا معاف لیکن میں نہیں گمان کرتا کہ اس معاملے کا کوئی ربط وفاداری سرکار کمپنی سے ہے۔“ حکیم صاحب نے بھی تیوری پر بل لا کر جواب دیا۔ ”اور بالفرض اگر ہو بھی تو میں نمک خوارِ بادشاہ کا ہوں، نمک خوارِ کمپنی نہیں۔“ ”اور تمھارا بادشاہ کمپنی بہادر کا نمک خوار ہے عُمدۃ الملک حکیم احسن اللہ خان!“”اپنا اپنا خیال ہے نواب ریزیڈنٹ بہادر!“ حکیم صاحب کا لہجہ اور بھی خشک ہو گیا تھا، ”ظلِ الہیٰ اور ان کے اسلاف کو تختِ دہلی پر حکمرانی کرتے دو سو سے زیادہ برس ہو گئے۔“”ہم نے آپ کو یہاں تاریخ کا درس دینے کے لیے نہیں طلب کیا ہے حکیم صاحب!“”جی ہاں، اور نہ نسخئہ عرقِ گاؤ زبان کے لیے۔ اور بھی دو کام میں جانتا ہوں۔ مجھے رنج ہے کہ میں آپ کے لیے ناکارہ ثابت ہوا۔“

  3. حاضرین میں سے بعض کی تیوری پر بل آیا۔ کچھ کی برہمی کا باعث یہ تھا کہ رِیزیڈنٹ کو کوئی حق نہ تھا کہ وہ بادشاہ کی رعایا، علیٰ الخصوص بادشاہ کے معالج کو اپنے یہاں طلب کرے۔ کچھ کو اس وجہ سے تردد ہوا کہ حکیم صاحب اب اٹھ جائیں گے اور ہم لوگ آج انھیں نبض نہ دکھا سکیں گے لیکن حکیم صاحب نے اپنے معمولہ لہجے میں پوچھا:”کیوں، کیا معاملہ ہے؟ کچھ طبیعت ناساز ہے کیا؟“”ہم لوگوں کو خبر نہیں سرکار! ہمیں بس یہی حکم ہوا کہ حکیم جی صاحب کو ہمارا سلام پہنچاؤ اور ابھی ساتھ لے کر پھرو۔“”ابھی تو میں مریضوں کو دیکھ رہا ہوں۔ ظہر کے ذرا پہلے اٹھوں گا، پھر نماز پڑھ کر تمھارے ساتھ چل سکوں گا، سمجھے؟“ ”مگر صاحب نے تو۔۔۔“ چوبدار نے کہنا شروع کیا۔ ”ٹھیک ہے، صاحب نے کہا ہے۔“ حکیم صاحب نے قطع کلام کیا لیکن لہجے میں کوئی درشتی یا ناخوشگواری نہ تھی۔ ”لیکن میں تو اتنے لوگوں کو ادھرمیں چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ تم چاہو تو جا کر نواب ریزیڈنٹ بہادر کو مطلع کر دو۔“