Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

2nd Year اُردو لازمی Chapter 12 Testنثر نمبر 12: نظریہ پاکستان

18 marks · 40 minutes · 13 questions. Covers: نثر نمبر 12: نظریہ پاکستان.

Your school name

2nd Year اُردو لازمی Chapter 12 Test

2nd Year · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 18Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. مسلم اکثریت والے علاقوں میں آزاد مسلم ریاست قائم کرنے کے اعلان کو کیا کہتے ہیں؟

    1. شملہ وفد

    2. معاہدہ لکھنؤ

    3. قراردادِ پاکستان

    4. نہرو رپورٹ

  2. ہندوؤں نے مسلمانوں کی مشترکہ زبان اردو کے مقابلے میں کسے قائم کیا؟

    1. سنسکرت

    2. انگریزی

    3. ہندی

    4. پنجابی

  3. پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے کس ملک کا ساتھ دیا؟

    1. انگریزوں کا

    2. جرمنی کا

    3. فرانس کا

    4. روس کا

  4. تحریکِ خلافت کس کی رہنمائی میں شروع ہوئی؟

    1. سرسید احمد خان

    2. مولانا محمد علی جوہر

    3. نواب محسن الملک

    4. علامہ اقبال

  5. کس چیز سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کی کوشش کرنی چاہیے؟

    1. تعلیم سے

    2. قانون سے

    3. ہر قسم کی گروہ بندی

    4. محنت سے

  6. قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کس شہر منتقل ہو گئے؟

    1. لاہور

    2. حیدرآباد

    3. کراچی

    4. اسلام آباد

  7. یہ پورا سبق کس کتاب یا ماخذ سے ماخوذ ہے؟

    1. گلشنِ ادب

    2. گلشنِ وحدت

    3. تاریخِ ہند

    4. بانگِ درا

  8. ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی تحریروں میں کون سا انداز اختیار کیا جاتا تھا؟

    1. مزاحیہ انداز

    2. افسانوی انداز

    3. تحقیقی انداز

    4. تنقیدی انداز

  9. شاہ اسماعیلؒ رشتہ میں شاہ ولی اللہؒ کے کیا تھے؟

    1. بیٹے

    2. بھائی

    3. پوتے

    4. بھتیجے

  10. کانگریس نے نہرو رپورٹ کس سال شائع کی؟

    1. ١٩٢٠ء میں

    2. ١٩٢٤ء میں

    3. ١٩٢٨ء میں

    4. ١٩٣٠ء میں

Q2. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. اسی زمانے میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے صاحبزادوں نے مسلمانوں کی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کو دور کرنے کی تحریک شروع کی۔ پھر ان کے پوتے شاہ اسماعیلؒ نے اپنے مرشد سید احمد بریلویؒ کے ساتھ اسلامی اصولوں کو دوبارہ رائج کرنے اور ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی کوشش میں ۱۸۳۱ء میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ تاہم انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ چناں چہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں نے پھر اپنے قدم جمانے کی کوشش کی لیکن انگریزی اقتدار مستحکم ہو چکا تھا، اس لیے انھیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس زمانے میں سرسید نے مجبوراً انگریزوں سے مفاہمت کو غنیمت جانا اور مسلمان قوم کی اخلاقی اور تہذیبی اصلاح پر توجہ دی اور ان کے دلوں سے احساسِ کمتری کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ ۱۸۸۵ء میں ہندوؤں نے کانگریس کی بنیاد ڈالی اور ظاہر یہ کیا کہ وہ ملک کی تمام قوموں کو ان کے حقوق دلوائیں گے لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے کاروبار سے بھی محروم کرنے کی کوشش کی اور وہ سرکاری ملازمتوں پر بھی قابض ہو گئے۔ نیز انھوں نے مسلمانوں کی مشترکہ زبان اردو کے مقابلے میں ہندی کو قائم کر دیا۔ سرسید نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی اس کانگریس اور ان کی سیاست سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے ایک دوست مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیوبند میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کی طرف توجہ دی۔ پھر سرسید کے ایک رفیق نواب وقار الملک نے ۱۹۰۶ء میں کل ہند مسلم لیگ کے نام سے مسلمانوں کی ایک الگ تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ یہ تنظیم ڈھاکے میں قائم ہوئی تھی، جہاں ہندوؤں نے سازش کر کے مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے مشرقی بنگال اور آسام کا وہ صوبہ جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، ختم کرا دیا اور ۱۹۱۱ء میں اسی علاقے کو پھر بنگال میں شامل کرا دیا۔

  2. قومیت کی دوسری بنیاد وہ ہے، جو رسولِ مقبول خاتم النّبیّن صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے ملتِ اسلامیہ کی تشکیل کرتے وقت قائم فرمائی اور جو مغرب کے تصورِ قومیت سے جدا ہے، جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے بھی فرمایا ہے:اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ ان کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تری۔ مسلمانوں کی قومیت ایک نظریاتی قومیت ہے، جو لا الہ الا اللہ پر قائم ہے یعنی یہ کہ نسل، رنگ اور وطن کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک عقیدے اور ایک کلمے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اور اس نظریاتی پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے اسے ملت کہا گیا ہے۔ ایسی نظریاتی قومیت میں ہر نسل، ہر رنگ اور ہر جغرافیائی خطے کے لوگوں کے لیے جگہ ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو، جن میں ہر نسل، ہر رنگ اور مختلف جغرافیائی خطوں کے لوگ شامل تھے، ایک ایسی قوم کے ماتحت اقلیت بن کر رہنا منظور نہ تھا، جو اسلامی قومیت کے برعکس ذات پات، چھوت چھات اور بت پرستی کے بندھنوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ چناں چہ انھوں نے اپنی جداگانہ قومیت، یعنی اسلامی قومیت کی بنیاد پر اپنے لیے ایک جدا وطن کا مطالبہ کیا، جس میں وہ اپنے عقیدے، اپنے نظریۂ زندگی، اپنے طرزِ معاشرت کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے دورِ جدید کا مقابلہ کر کے اپنے مستقبل کو سنوار سکیں۔

  3. اسی زمانے میں پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی، جس میں انگریز کا مقابلہ جرمنی سے ہوا اور ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمان چوں کہ ترکی کے سلطان کو حجاز کی خدمت کرنے کی وجہ سے خلیفۂ اسلام سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے مالی اور طبی امداد بھی بہم پہنچائی جس کی وجہ سے حکومتِ برطانیہ کو مسلمانوں سے عناد پیدا ہو گیا لیکن انھوں نے یہاں کے مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا کہ اگر ہمیں اس جنگ میں فتح حاصل ہو گئی تو ہم کسی طرح بھی ترکی کو مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ یہ وعدہ محض فریب تھا۔ چناں چہ جب انگریزوں کو فتح حاصل ہوئی، تو وہ اپنے وعدے سے پھر گئے اور انھوں نے ترکی کی وسیع سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ یہاں کے مسلمانوں کو اس فریب کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچی اور انھوں نے خلافت کے تحفظ کے لیے مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کی رہنمائی میں تحریکِ خلافت شروع کی لیکن اسی زمانے میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی کی تحریک شروع کی اور ان کو ختم کرنے کے لیے سنگھٹن کی تحریک بھی شروع کی ۔ پھر ۱۹۲۸ء میں کانگریس نے جو نہرو رپورٹ شائع کی، اس میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ نمائندگی کا اصول جو وہ بارہ سال پہلے تسلیم کر چکی تھی، بالکل نظر انداز کر دیا۔ پھر تو مسلمانوں میں بڑا جوش پیدا ہوا اور انھیں یقین ہو گیا کہ چوں کہ ان کا دین، ان کی تہذیب اور ان کی معاشرت سب کچھ غیر مسلموں سے مختلف ہے، اس لیے کسی حالت میں ہندوؤں سے تعاون نہیں ہو سکتا۔ چناں چہ ۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے الہ آباد والے اجلاس میں علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن (پاکستان) بنانے کی تجویز پیش کی۔ چار سال کے بعد جب قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مسلم لیگ کی صدارت کا مستقل عہدہ قبول کیا، تو انھوں نے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی۔ آخر ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو انھوں نے لاہور کے اجلاس میں واضح طور پر اعلان کر دیا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں ایک آزاد مسلم ریاست قائم کی جائے۔ اس اعلان کو ”قراردادِ پاکستان“ کہتے ہیں، جس کی رُو سے مسلمانوں کی آزاد اور خودمختار حکومت قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔