Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

9th Class اُردو لازمی Chapter 16 Testغزل نمبر 1: فقیرا نہ آئے صدا کرچلے

30 marks · 40 minutes · 21 questions. Covers: غزل نمبر 1: فقیرا نہ آئے صدا کرچلے.

Your school name

9th Class اُردو لازمی Chapter 16 Test

9th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 30Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. روزی کی تلاش میں میر تقی میر گئے:

    1. آگرہ

    2. لاہور

    3. دلی

    4. میرٹھ

  2. میر تقی میر کی غزل کی ردیف ہے:

    1. دعا

    2. کرچلے

    3. چلے

    4. دعا کرچلے

  3. شاعر نے علاج کیا:

    1. مقدوربھر

    2. چلو بھر

    3. جی بھر

    4. آنکھ بھر

  4. اردو شعراء نے استاد تسلیم کیا:

    1. غالب کو

    2. میر کو

    3. درد کو

    4. آتش کو

  5. میر تقی میر پیدا ہوئے:

    1. دلی میں

    2. آگرہ میں

    3. لکھنو میں

    4. بہار میں

  6. میر تقی میر کے والد تھے:

    1. علی تقی

    2. علی امین

    3. علی متقی

    4. متقی علی

  7. شاعر نے عہد کو ...... 

    1. توڑا

    2. چھوڑا

    3. وفا کیا

    4. خفا کیا

  8. شاعر نے غم نہ دیکھا:

    1. زمانے کا

    2. باپ کا

    3. اولاد کا

    4. دوستوں کا

  9. شاعر کس حال میں آیا؟

    1. امیرانہ

    2. فقیرانہ

    3. رئیسانہ

    4. دلیرانہ

  10. دنیا ایک ...... سے زیادہ کچھ نہیں:

    1. ڈرامے

    2. دکھاوے

    3. بہانے

    4. ہنگامے

Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)

  1. شاعر نے کس بات کا شکر ادا کیا ہے؟

  2. مقطع میں شاعر نے اپنی دنیوی اعمال کے بارے میں کہا کہا ہے؟

  3. میر تقی میر کے پسندیدہ مضامین کون سے ہیں؟

  4. میر تقی میر آخری عمر میں کہاں مقیم رہے؟

  5. مطلع اور مقطع کسے کہتے ہیں؟  میر کی غزل سے مثالیں دیں۔

  6. میر تقی میر نے کس بات پر شکر ادا کیا؟

  7. میر تقی میر کو اردو ادب میں کیا مقام حاصل ہے؟

  8. دنیا کے بارے میں میر تقی میر کا کیا نظریہ تھا؟

Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. فقیرانہ آئے، صدا کر چلے   میاں خوش رہو، ہم دعا کر چلے
  2. جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم   سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
  3. نہ دیکھا غم دوستاں، شکر ہے   ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے