Your school name
9th Class اُردو لازمی Chapter 2 Test9th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
نا تہذیبی اور بدچلنی شمار ہوتی ہے:
علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی گئی:
علم کی بہ نسبت عمل اور سوانح عمری کی بن نسبت آدمی کو معزز اور قابل ادب بناتا ہے:
انسان کی قومی ترقی کی نسبت ہم لوگوں کا خیال ہے کہ ملے کوئی:
سر سید احمد خان پیدا ہوئے:
کامیابی کا بڑا ذریعہ ہے:
سرسید کی مورث اعلیٰ ...... دربار سے منسلک رہے:
سر سید کے نزدیک کونسا علم انسان کو انسان بناتا ہے؟
آزمودہ کا مطلب ہے:
قوم بنتی ہے:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
سر سید کے مطابق انسان کیسے معزز اور قابل ادب ہوتا ہے؟
سر سید کے مطابق قوانین اور گورنمنٹ کس کے موافق ہوتی ہے؟
نیچر کا قاعدہ کیا ہے؟
سر سید کے مطابق کون سا علم انسان کو انسان بناتا ہے؟
بیرونی کوششوں سے برائیوں کو ختم کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
سر سید کے مطابق ہمیں پرکھوں کی وراثت کیوں دی گئی ہے؟
متلازم یا گروہی الفاظ سے کیا مراد ہے؟
قومی ترقی کس چیز کا مجموعہ ہے؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
انسان کی اگلی پشتوں کے حالات پر خیال کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی موجودہ حالت انسانوں کے نسل در نسل کے کاموں سے حاصل ہوئی ہے۔محنتی اور مستقل مزاج محنت کرنے والوں، زمین کے جوتنے والوں، کانوں کے کھودنے والوں، نئی نئی باتوں کے ایجاد کرنے والوں ، مخفی باتوں کو ڈھونڈ کر نکالنے والوں، آلاتِ جرثقیل سے کام لینے والوں اور ہرقسم کے پیشہ کرنے والوں، ہنر مندوں شاعروں، حکیموں، فیلسوفوں، ملکی منتظموں نے انسان کو موجودہ ترقی کی حالت پر پہنچانے میں بڑی مدد دی ہے۔
یہ ایک نہایت عمدہ اور آزمودہ مقولہ ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے میں انسانوں کا اور قوموں کا اور نسلوں کا تجربہ جمع ہے۔ایک شخص میں اپنی مدد کرنے کا جوش اس کی سچی ترقی کی بنیاد ہے اور جب یہ جوش بہت سے شخصوں میں پایا جائے تو وہ قومی ترقی اور قومی طاقت اور قومی مضبوطی کی جڑ ہے۔ جب کہ کسی شخص کےلیے کسی گروہ کےلیے کوئی دوسرا کچھ کرتا ہے تو اس شخص میں سے یا اس گروہ میں سے وہ جوش اپنی مدد آپ کرنے کا کم ہوجاتا ہے۔
وہ شخص در حقیقت غلام نہیں ہے جس کو ایک خدانا ترس نے جو اس کا ظالم آقا کہلایا جاتا ہے خرید لیا ہے، یا ایک ظالم اور خود مختار بادشاہ یا گورنمنٹ کی رعیت ہے بلکہ درحقیقت وہ شخص اصلی غلام ہے جو بد اخلاقی، خود غرضی، جہالت اور شرارت کا مطیع اور اپنی خود غرضی کی غلامی میں مبتلا اور قومی ہمدردی سے بے بروا ہے۔ وہ قومیں جو اس طرح دل میں غلام ہیں وہ بیرونی زوروں سے، یعنی عمدہ گورنمنٹ یا عمدہ قومی انتظام سے آزاد نہیں ہو سکتیں جب تک کہ غلامی کی یہ دلی حالت دور نہ ہو۔