Your school name
9th Class اُردو لازمی Chapter 4 Test9th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)
Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)
قوموں کا امتیاز ..... ہے:
مولوی عبدالحق اورنگ آباد کالج کے عہدے پر فائز رہے:
ہم میں موروثی ہوگئی ہے:
نام دیو کی اولاد تھی:
ڈاکٹر سید سراج الحسن کا ذوق ...... مشہور تھا:
مولوی عبدالحق نے وفات پائی:
نام دیو کو اپنے کام سے:
مولوی عبدالحق کی اردو کےلیے خدمات کے پیش نظر انھیں لقب ملا:
درجہ کمال تک پہنچنے کی کوشش میں انسان، انسان بنتا ہے، یہ سمجھو ...... ہوجاتا ہے:
نام دیو کے لگائے ہوئے پودے ہمیشہ:
Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)
مولوی عبدالحق کی تحریر کی خوبیاں بیان کریں۔
پانی کی قلت کے باوجود نام دیو کا چمن ہرا بھرا کیوں تھا؟
مولوی عبدالحق نے نام دیو کو اس کی بے مثل کار گزاری پر انعام دینا چاہا تو اس کا کیا رد عمل تھا؟
نام دیو مالی کس مزاج کا انسان تھا؟
مصنف کے خیال میں نام دیو مالی کس رتبے کا حامل تھا؟
کون سا باغ اپنی ترتیب و تعمیر کے لحاظ سے مغلیہ باغ کا بہترین نمونہ تھا؟
جب پانی کی قلت ہوئی تو نام دیو مالی اپنے پودوں کو کیسے سینچتا تھا؟
اورنگ آباد میں باغ لگانے کاکام کسے تفویض ہوا؟
Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)
باغ کے داروغہ عبدالرحیم فنیسی خود بھی بڑے کارگزار اور مستعد شخص ہیں اور دوسرے سے بھی کھینچ تان کا کام لیتے ہیں۔ اکثر مالیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنی پڑتی ہے۔ورنہ ذرا بھی نگرانی میں ڈھیل ہوئی، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے یا بیڑی پینے لگے یا سائے میں جا لیٹے۔ عام طور پر انسان فطرتاً کاہل اور کام چور واقع ہوا ہے۔
اب مجھے اس سے دلچسپی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ بعض وقت اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھا کرتا۔ مگر اسے خبر نہ ہوتی کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا اس کے آس پاس کیا ہورہا ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتا۔ اس کے کوئی اولاد نہ تھی وہ اپنے پودوں اور پیڑوں ہو کو اپنی اولاد سمجھتا تھا اور اولاد کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا۔ ان کو سرسبز اور شاداب دیکھ کر ایسا ہی خوش ہوتا جیسے ماں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔
ایک سال بارش بہت کم ہوئی۔ کنوؤں اور باؤلیوں میں پانی برائے نام رہ گیا۔ باغ پر آفت ٹوٹ پڑی۔بہت سے پودے اور پیڑے تلف ہوگئے۔جو بچ رہے وہ ایسے نڈھال اور مرجھائے ہوئے تھے جیسے دق کے بیمار،لیکن نام دیو کا چمن ہرابھرا تھا۔ دہ دور دور سے ایک ایک گھڑا پانی کا سر پر اٹھا کے لاتا اور پودوں کو سینچتا۔ یہ وقت تھا کہ قحط نے لوگوں کے اوسان خطا کر رکھے تھے اور انھیں پینے کو پانی مشکل سے میسر آتا تھا۔