Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

9th Class اُردو لازمی Chapter 8 Testنثر نمبر 8: لڑی میں پروے ہوئے منظر

30 marks · 40 minutes · 21 questions. Covers: نثر نمبر 8: لڑی میں پروے ہوئے منظر.

Your school name

9th Class اُردو لازمی Chapter 8 Test

9th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 30Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. اکبر ملاح لایا تھا:

    1. گنگا سے

    2. جمنا سے

    3. بہار سے

    4. بنارس سے

  2. اٹک کا نام رکھا تھا:

    1. محمود غزنوی نے

    2. شہاب الدین غوری نے

    3. اکبر اعظم نے

    4. شیر شاہ سوری نے

  3. گرینڈ ٹرنک روڈ کی تعمیر کی:

    1. اکبر نے

    2. مغلوں نے

    3. انگریزوں نے

    4. سکھوں نے

  4. مورخوں نے ہندوستان کا دروازہ کہا تھا:

    1. لنڈی کوتل کو

    2. پشاور کو

    3. ہنڈ کو

    4. نو شہرہ کو

  5. سکھوں کا مشہور گرد وارہ واقع ہے:

    1. نو شہرہ میں

    2. اٹک میں

    3. حسن ابدال میں

    4. واہ میں

  6. "لڑی میں پڑوے ہوئے منظر "کے مصنف کا نام ہے:

    1. ابن انشا

    2. رضا علی عابدی

    3. علامہ اقبال

    4. مولانا حالی

  7. رضا علی عابدی کراچی منتقل ہوئے:

    1. 1947 میں

    2. 1948 میں

    3. 1949 میں

    4. 1950 میں

  8. کسٹم کا عملہ کس علاقے میں کھڑا تھا:

    1. پنجاب

    2. سندھ

    3. دلی

    4. دکن

  9. نو شہرہ کے قریب آجانے کی پہچان تھی:

    1. دریائے سندھ

    2. دریائے کابل

    3. دریائے ہرو

    4. دریائے سون

  10. سرائے کالا سے کونڈیا ملتی ہیں:

    1. مٹی کی

    2. پتھرکی

    3. لکڑی کی

    4. پیتل کی

Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)

  1. ڈاکٹر اجمل کی گلی کہاں واقع ہے؟

  2. چنگیز خاں کہاں سے واپس مڑا تھا؟

  3. اکبر جگہوں کےنام کیسے رکھتا تھا؟

  4. اکبر کس نے نقش قدم پر چلتا رہا؟

  5. انڈیا اور پاکستان کے بہت سے شہروں کے نام کے ساتھ سرائے کا لفظ کیوں آتا ہے؟

  6. مرگلا کی پہاڑی کہاں واقع ہے؟

  7. جرنیلی سڑک کا دوسرا نام بتائیں؟

  8. مصنف نے کیا دعا مانگی ہے؟

Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. کیسا دل چسپ اتفاق ہے۔ سڑک اور وزیر دونوں آنی جانی چیزیں ہیں۔ وادی پشاور اب بھی بہت سرسبز نظر آرہی تھی۔ جن زمینوں کو آتے جاتے لشکروں نے باربار روندا ہوگاوہ اب تک ہری بھری تھیں۔کبھی ریلوے لائن سڑک کے قریب آجاتی تھی۔کبھی بجلی کے بڑے بڑے کھمبے اور موٹے موٹے تار ساتھ ساتھ دوڑنے لگتے تھے۔

  2. حسن ابدال کے قریب اس مغل باغ کے آثار اب بھی موجود ہیں جس کے تالاب سے جہانگیر نے مچھلیاں پکڑی تھیں اور ان کی ناک میں موتی پرو کر پھر پانی میں چھوڑ دیا تھا۔ یہیں وہ بڑی سی چٹان ہے جس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ اسے بابا ولی قندھاری نے پہاڑی کے اوپر سے لڑھکا دیا تھا اور نیچے بابا گرونانک نے چٹان کو اپنے ایک پنجے پر روک لیا تھا۔

  3. راستے میں حسن ابدال کا پڑاؤتھا۔ کبھی یہ شہر اتنا دل کش رہا ہوگا کہ مغل مورخ لکھتے ہیں کہ لاہور سے کابل جانے والی شاہراہ پر یہ حسین ترین منزل ہے۔ مگر آج کے حسن ابدال میں جھرنوں کے شور اور چڑیوں کی چہکار سے زیادہ جو چیز گونجتی ہے وہ سڑک کی دونوں طرف ہوٹلوں کے لاؤڈ اسپیکر ہیں جن پر دن رات فلمی گانے بجا کرتے ہیں۔