Skip to content

Punjab (PTB) · Chapter test · Free

9th Class اُردو لازمی Chapter 9 Testنثر نمبر 9: بھیڑیا

30 marks · 40 minutes · 21 questions. Covers: نثر نمبر 9: بھیڑیا.

Your school name

9th Class اُردو لازمی Chapter 9 Test

9th Class · اُردو لازمی · Punjab (PTB)

Name: ____________Roll No: ________Class/Section: ________Date: ________Total marks: 30Time: 40 minutes

Q1. معروضی سوالات (Attempt all · 10 × 1 = 10)

  1. ایک بھیڑیا مرنے کے بعد دوسرا بھیڑیا بن جاتا ہے:

    1. شریف

    2. بزدل

    3. کمزور

    4. وحشی

  2. درخت پر بیٹھا شخص سوچتا ہے کہ بھیڑیا مر جائے:

    1. خوف سے

    2. بھوک سے

    3. سردی سے

    4. تھکن سے

  3. ...... جیسا بڑا بھیڑیا دھڑام سے نیچے گرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے مر جاتا ہے:

    1. گھوڑے

    2. ہاتھی

    3. شیر

    4. چیتے

  4. آزادی ہمیشہ تقاضا کرتی ہے:

    1. دولت کا

    2. حکومت کا

    3. قربانی کا

    4. جدائی کا

  5. درخت پر اسے دکھائی دیا:

    1. سانپ

    2. بھیڑیا

    3. دوسرا آدمی

    4. عقاب

  6. سبق بھیڑیا صنف کے لحاظ سے ہے:

    1. ناول

    2. افسانہ

    3. ڈراما

    4. خاکہ

  7. اردو میں افسانہ آیا ہے:

    1. ایران سے

    2. مشرق سے

    3. مغرب سے

    4. عرب سے

  8. بھیڑیا اردو میں ترجمہ ہوا:

    1. فارسی ادب سے

    2. انگریزی ادب سے

    3. پنجابی ادب سے

    4. پشتو ادب سے

  9. ادب سر کے مصنف ہیں:

    1. سر سید

    2. سردار علی

    3. فاروق سرور

    4. مولانا حالی

  10. درخت پر بیٹھے شخص کو عجیب طرح کی ...... کا سمان کرنا پڑتا ہے:

    1. آزادی

    2. خوف

    3. بھوک

    4. اذیت

Q2. مختصر سوالات (Attempt any 6 of 8 · 6 × 2 = 12)

  1. فاروق سرور کا پیشہ کیا تھا؟

  2. افسانہ بھیڑیے کے تناظر میں بتائیں کہ آزادی کیسے ممکن ہے؟

  3. درخت پر بیٹھا شخص بالاآخر کیا کرتا ہے؟

  4. افسانہ بھڑیا کاافتتاحی منظر بیان کریں۔

  5. افسانے میں ہاتھی جیسے بڑے بھیڑیے کا شاخ سے مر جانا کا بات کی علامت ہے؟

  6. فاروق سرور کا تعلق کہاں سے ہے؟

  7. حروف تحسین کی تعریف کریں اور مثال بھی دیں۔

  8. افسانہ بھیڑیےمیں شخص کی بددعا کیوں اثر نہیں کرتی؟

Q3. تفصیلی سوالات (Attempt any 2 of 3 · 2 × 4 = 8)

  1. میرا ذہن اب بالکل ماؤف ہے۔ میری آنکھیں بند ہیں اور میں پھانسی چڑھنے والے اس مجرم کی طرح موت کو خوش آمدید کہ رہا ہوں جس کی گردن میں رسی کا پھندا ڈالا جا چکا ہے اور جب اب اس انتظار میں ہے کہ جلادکب لیور کھینچے گا۔ میں اس وقت اگر کوئی آوازیں سن رہا ہوں تو وہ صرف میرے ساتھی کی ہیں، جو نیچے سے دے رہا ہے کہ خدارا نیچے اترو۔

  2. ایک صبح جب میری آنکھ کھلتی ہے تو اچانک درخت کے گھنے پتوں سے مجھے کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ خوف سے ایک تیز سی چیخ میرے منھ سے نکلتی ہے اور مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ بھیڑیا بالآخر اپنی کوشش میں کامیاب ہوہی گیاپھر میری حیرت کی انتہا نہیں رہتی جب مجھے پتہ چلتا ہے کہ وہ میرے ہی جیسا ایک شخص ہے۔ پریشان اور گھبرایا ہوا۔

  3. جس درخت پر اب میرا مسکن ہے۔ یہ ایک عجیب سا درخت ہے بلکہ اگر میں اسے جادو کا درخت کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ میں یہاں جو بھی خواہش کرتا ہوں وہ فوراً پوری ہوجاتی ہے۔ اگر نرم اور گرم بستر کے بارے میں سوچوں تو وہ میرے قریب بچھ جاتا ہے۔اُکتا جاؤں تو میرے سامنے ایک شان دار ٹی وی سیٹ آجاتا ہے۔جس کے اسٹیریواسپیکر ہوتے ہیں اور دنیا کا ہر اسٹیشن پکڑ سکتا ہے۔